پاکستان نے سمندروں کو امن اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان نے سمندروں کو امن اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے قرار دے دیا۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر سمندر سے متعلق قانون کے دفاع پر بھی زور دیا ہے۔ سمندروں پر بالادستی قائم کرنے یا ساحلی ریاستوں کے حقوق کمزور کرنے کی کوششوں پر اظہار تشویش کیا۔
پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری ذوالفقار علی نے جنرل اسمبلی کے سالانہ مباحثے میں کہا کہ عالمی سمندر تعاون، قانونی عملداری اور منصفانہ ترقی کے خطّے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا سمندری ماحولیاتی بحرانوں کے ایک سلسلے کا سامنا کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے قانون سمندر پر پاکستان نے رواں سال دستخط کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔