پاکستان نے سمندروں کو امن اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان نے سمندروں کو امن اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے قرار دے دیا۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر سمندر سے متعلق قانون کے دفاع پر بھی زور دیا ہے۔ سمندروں پر بالادستی قائم کرنے یا ساحلی ریاستوں کے حقوق کمزور کرنے کی کوششوں پر اظہار تشویش کیا۔
پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری ذوالفقار علی نے جنرل اسمبلی کے سالانہ مباحثے میں کہا کہ عالمی سمندر تعاون، قانونی عملداری اور منصفانہ ترقی کے خطّے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا سمندری ماحولیاتی بحرانوں کے ایک سلسلے کا سامنا کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے قانون سمندر پر پاکستان نے رواں سال دستخط کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :