پاکستان نے سمندروں کو امن اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
-- فوٹو: اسکرین گریب/جیو
پاکستان نے سمندروں کو امن اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے قرار دے دیا۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر سمندر سے متعلق قانون کے دفاع پر بھی زور دیا ہے۔ سمندروں پر بالادستی قائم کرنے یا ساحلی ریاستوں کے حقوق کمزور کرنے کی کوششوں پر اظہار تشویش کیا۔
پاکستان نے آنے والی نسلوں کے لیے سمندروں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر پرجوش اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ فرانس میں پاکستان کی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے فرانس کے شہر نیس میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی تیسری اوشین کانفرنس میں کیا۔
پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری ذوالفقار علی نے جنرل اسمبلی کے سالانہ مباحثے میں کہا کہ عالمی سمندر تعاون، قانونی عملداری اور منصفانہ ترقی کے خطّے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا سمندری ماحولیاتی بحرانوں کے ایک سلسلے کا سامنا کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے قانون سمندر پر پاکستان نے رواں سال دستخط کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔