پاکستان تحریک انصاف پارلیمانی پارٹی اعلامیے اور فیصلوں میں اختلافات
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف پارلیمانی پارٹی اعلامیے اور فیصلوں میں اختلافات سامنے آگئے۔
ارکان کلی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اعلامیہ کس نے بنایا، اجلاس کے اعلامیے میں شامل نکات پر بات نہیں ہوئی، ارکان نے گروپس میں کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں کچھ بات ہوتی ہے باہر کچھ بتایا جاتا ہے۔
عاطف خان نے کہا کہ مجھے رانا ثناء اللّٰہ یا وفاقی وزیر کی کمیٹی بنانے کی پیشکش کا علم نہیں، کل پارلیمانی پارٹی میں کسی کمیٹی میں شمولیت کی پیشکش پر بات نہیں ہوئی۔
اجلاس میں ارکان نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ حکومت کو کریک ڈاؤن یا رکاوٹ کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جائے گا، بیرسٹر گوہر نے کہا ایڈوائزری کمیٹی میں جائیں گے تو ہی اسپیکر کو اپنا پیغام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں سہولتوں سے معتلق پر کمیٹی میں شمولیت پر میری موجودگی میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ارکان ڈاکٹر امجد اور صاحبزادہ صبغت اللّٰہ نے کہا کہ کل پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وفاقی وزیر کمیٹی میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں موجودہ صورتِ حال میں پی ٹی آئی کے لیے ممکن نہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھیں، جن کے پاس اختیار نہیں ان کے ساتھ جا کر کیا بیٹھیں یا شامل ہوں، پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔
صاحبزادہ صبغت اللّٰہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جو مذاکرات ہوں وہ نتائج کے حامل ہوں، ہم نے سوشل میڈیا اور صحافیوں سے یہ باتیں سنی ہیں، کسی وزیر کی کمیٹی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پارلیمانی پارٹی کمیٹی میں نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔