سوڈان میں اسپتال اور اسکول پر حملہ، 68 بچوں سمیت 114 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-01-5
خرطوم (مانیٹرنگ ڈیسک ) خانہ جنگی کے شکار سوڈان کے ایک اسپتال اور پرائمری اسکول پر ہونے والے فضائی حملے میں 66 بچوں سمیت 114 جاں بحق ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جس اسپتال کو نشانہ بنایا گیا اس میں سیکڑوں مریض داخل تھے اور یہ آخری فعال اسپتال تھا۔حملے میں ایمرجنسی وارڈ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ملبے میں طبی عملہ، مریض اور ان کے اہل خانہ دب گئے۔ زیادہ تر جنگ سے متاثرہ زخمی اسپتال میں داخل تھے۔اسپتال کے قریب ہی ایک کنڈرگارٹن اسکول بھی تھا۔ وہ بھی اس حملے میں تباہ ہوگیا۔ ڈبلیو ایچ او نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں اور اسکولوں پر حملے جنگی جرائم ہیں۔ صحت کا نظام پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔اقوام متحدہ نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جب کہ افریقی یونین نے فریقین پر زور دیا کہ شہریوں اور طبی مراکز کو نشانہ نہ بنایا جائے۔جنگ زدہ علاقوں میں متاثرین کی مدد کرنے والی امدادی تنظیموں نے محفوظ راستے کھولنے کی اپیل ہے تاکہ زخمیوں کو منتقل کیا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔