غزہ میں نومولود بچوں اور شیر خواروں کی خستہ صورتحال، یونیسف
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں غذائی قلت کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ اس صورتحال کے ہزاروں نومولود بچوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں غذائی قلت کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ اس صورتحال کے ہزاروں نومولود بچوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ فارس نیوز کے مطابق، یونیسف کی ترجمان تس اینگرام نے کہا کہ صورت حال واضح ہے، وہ خواتین جو غذائی قلت کا شکار ہیں، نارس یا کم وزن کے بچے پیدا کرتی ہیں، جو خصوصی نگہداشت کے شعبوں میں اپنی جان کھو دیتے ہیں، یا اگر زندہ رہیں تو غذائی قلت یا سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں ہم یہ تین عوامل بیک وقت دیکھ رہے ہیں۔
اینگرام نے بتایا کہ گزشتہ اکتوبر میں یونیسف نے تقریباً 8,300 حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو شدید غذائی قلت کے کیسز میں شامل کیا، یعنی اوسطاً روزانہ 270 خواتین، جبکہ اس سے قبل غزہ میں حاملہ خواتین میں غذائی قلت کے کوئی کیسز درج نہیں ہوئے تھے۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ خواتین عام طور پر اپنا خوراک اپنے بچوں کو دیتی ہیں، اور انہوں نے غزہ کے ہسپتالوں میں ایسے نومولود دیکھے جو ایک کلوگرام سے بھی کم وزن کے تھے اور اپنی بقا کے لیے پوری جدوجہد کر رہے تھے۔ اینگرام نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیل کچھ ضروری طبی آلات کے غزہ میں داخلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، اور اس نے رفح کراسنگ کو انسانی امداد کی آمد کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا۔
یونیسف کی ترجمان نے کہا کہ نومولود بچوں میں کم وزن ہونے کی شرح 2025 کے پہلے تین ماہ میں 10 فیصد تک بڑھ گئی ہے، اور پیدائش کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نومولود بچے جو پیدا ہونے کے پہلے دن ہی انتقال کر جاتے ہیں، کی تعداد 75 فیصد بڑھ گئی ہے، 2022 میں ماہانہ اوسطاً 27 بچے فوت ہوتے تھے، جبکہ جولائی تا ستمبر 2025 میں یہ تعداد 47 بچوں ماہ تک پہنچ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نومولود بچوں غذائی قلت کے کہا کہ
پڑھیں:
مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قتل مردان