سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کنگ سلمان ایئربیس پر نئی سہولتوں کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان نے منگل کے روز کنگ سلمان ایئر بیس میں نئی انتظامی اور فوجی سہولتوں کا افتتاح کیا۔
یہ اقدامات رائل سعودی ایئرفورس کی جنگی تیاری کو مزید مضبوط بنانے کے اسٹریٹجک منصوبوں کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا عالمی اقتصادی چیلنجز پر مشترکہ اقدامات کے لیے زور
سعودی ولی عہد کی آمد پر وزیر دفاع، شہزادہ خالد بن سلمان اور دیگر اعلیٰ عہدے داران نے ان کا استقبال کیا۔
Crown Prince and Prime Minister Mohammed bin Salman inaugurated on Tuesday new facilities at King Salman Air Base in the Central Sector.
— Saudi Gazette (@Saudi_Gazette) December 9, 2025
ولی عہد محمد بن سلمان نے بیس کی مختلف سہولتوں کا دورہ کیا اور تکنیکی، انتظامی اور رہائشی علاقوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی، جو عالمی معیارات کے مطابق تعمیر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے تعمیراتی مراحل اور انجینیئرنگ کے عناصر کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔
یہ سہولتیں فضائیہ کی جنگی تیاری کو بڑھانے اور مسلح افواج کے لیے منصوبہ بندی، کمانڈ، کنٹرول، سپلائی اور مشترکہ آپریشنز کی حمایت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
افتتاحی تقریب کے دوران ایک ویڈیو پیشکش میں اس منصوبے کے نفاذ کے مراحل دکھائے گئے، جو 2021 کی تیسرے سہ ماہی میں شروع ہونے کے بعد 38 ماہ میں مکمل ہوا۔
یہ منصوبہ سلمانی طرزِ تعمیر میں ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ ریاض کی شناخت اور جدید شہری رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس میں 115 عمارتیں شامل ہیں جو 126,000 مربع میٹر سے زائد رقبہ پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں رن ویز، طیاروں کے پارکنگ ایریا، ہیلی کاپٹر پیڈ، ہینگرز، ہوائی ٹریفک کنٹرول ٹاور اور تکنیکی، انتظامی، رہائشی اور سیکیورٹی سہولیات شامل ہیں۔
افتتاحی تقریب میں وزیر توانائی، شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، نائب امیر ریاض ریجن، شہزادہ محمد بن عبدالرحمن، میئر ریاض ریجن، شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز، اور دیگر اعلیٰ سول و فوجی عہدے داران بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارکنگ ایریا رائل سعودی ایئرفورس ریاض سپلائی سعودی ولی عہد کمانڈ کنٹرول کنٹرول ٹاور کنگ سلمان ایئر بیس محمد بن سلمان ہوائی ٹریفک ہیلی کاپٹر ہینگرز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارکنگ ایریا رائل سعودی ایئرفورس ریاض سپلائی سعودی ولی عہد کنٹرول کنٹرول ٹاور کنگ سلمان ایئر بیس ہوائی ٹریفک ہیلی کاپٹر ہینگرز سعودی ولی عہد کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔