قطر نے حماس کی مالی امداد کے الزام کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
دوحہ ایکسپو 2025ء میں شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دوحہ پر اس وقت حملہ کیا جب قطر کوشش کر رہا تھا کہ حماس کو "ڈونلڈ ٹرمپ" کی پیش کردہ تجاویز قبول کرنے پر راضی کرے۔ اسلام ٹائمز۔ آج قطر کے وزیر اعظم و خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے دوحہ ایکسپو 2025ء میں کہا کہ حماس کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ شفاف اور امریکی و صیہونی نگرانی میں جاری رہے۔ درحقیقت قطر، حماس کے ساتھ ہونے والا تعاون فلسطینی عوام کی حمایت میں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاست دانوں کی کوشش رہتی ہے کہ وہ ان تعلقات کو مشکوک بنائیں اور اس حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر اپنے فائدے میں استعمال کریں۔ لہٰذا اس بنیاد پر قطر پر حماس کی مالی امداد کو کوئی بھی الزام غلط ہے۔ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ قطر خطے میں امن و استحکام کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لئے کردار ادا کر رہا ہے، چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مستقل امن کے لئے ریاستی و غیر ریاستی عناصر سے تعاون ضروری ہے۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل نے دوحہ پر اس وقت حملہ کیا جب قطر کوشش کر رہا تھا کہ حماس کو "ڈونلڈ ٹرمپ" کی پیش کردہ تجاویز قبول کرنے پر راضی کرے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ قطر ان چیزوں کی بحالی کے لئے فنڈز فراہم نہیں کرے گا جو دوسروں نے تباہ کی ہیں۔ لیکن بات جب فلسطینیوں کی ہو تو ہم انہیں کبھی بھی تنہاء نہیں چھوڑیں گے۔ واضح رہے كہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کے پاس وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ قطر کی وزارت خارجہ کا قلمدان بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :