حماس نے اسرائیل کے خلاف ہتھیار پھینکنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے خلاف ہتھیار پھینکنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ تنظیم کے ہتھیاروں کا مقصد صرف اسرائیلی قبضے اور جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی سرزمین سے قبضہ ختم کر دے تو حماس اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہے۔
خلیل الحیہ کے مطابق حماس اقوام متحدہ کی ایسی علیحدگی فورس کی تعیناتی قبول کرے گی جو سرحدوں کی نگرانی کرے اور غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور قابض فوج کی تازہ کارروائیوں میں مزید 7 فلسطینی شہید کر دیے گئے۔
11 اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 367 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔