فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے خلاف ہتھیار پھینکنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ تنظیم کے ہتھیاروں کا مقصد صرف اسرائیلی قبضے اور جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی سرزمین سے قبضہ ختم کر دے تو حماس اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہے۔

خلیل الحیہ کے مطابق حماس اقوام متحدہ کی ایسی علیحدگی فورس کی تعیناتی قبول کرے گی جو سرحدوں کی نگرانی کرے اور غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور قابض فوج کی تازہ کارروائیوں میں مزید 7 فلسطینی شہید کر دیے گئے۔

11 اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 367 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم