data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251207-01-3

اسلام آباد / غزہ /تل ابیب /دمشق /استنبول/ دوحا (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سمیت8مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین سے بے دخلی کی کوششیں مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشرکہ بیان میں اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد غزہ کی پٹی
کے رہائشیوں کو مصر منتقل کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر مکمل عمل کیا جائے، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کی سخت مخالفت کرتے ہیں، رفح کراسنگ دونوں طرف سے کھلی رکھنے پر زور دیتے ہیں‘ غزہ کے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے۔اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کے مطابق غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے فوری آغاز پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ بیان میں فلسطینی اتھارٹی کے غزہ میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے حالات سازگار بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔شمالی غزہ میں اسرائیل کے ڈرون حملے میں ایک شہری شہید اور 3 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ اسرائیل کے طیاروں نے مشرقی غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے۔ اسرائیل کی فورسز نے شمالی علاقے شیخ زاید میں مکانات مسمار کرنے کی کارروائیاں بھی کیں۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے فلسطین کی آزادی اور استقلال کے لیے ایک وسیع عالمی اتحاد کی تشکیل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات اس کے شدت کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں کہ صہیونی ریاست پر اسی نوعیت کا عالمی دباؤ قائم کیا جائے جیسا جنوبی افریقا کے نسلی امتیاز کے خاتمے سے قبل دنیا نے وہاں کی حکومت پر ڈالا تھا۔ انہوں نے یہ بات استنبول میں شروع ہونے والی ’’العہد للقدس: تصفیہ اور نسل کشی کے مقابلے میں امت کی ارادے کی تجدید‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ترکیے کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل حقیقت پسندانہ اور مرحلہ وار انداز میں حل ہونا چاہیے‘ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے آخر میں رکھا جائے‘ حماس کو غیر مسلح کرنے سے پہلے غزہ میں انتظامی کنٹرول کی منتقلی، نئی پولیس فورس کا قیام اور انسانی امداد کی آزادانہ فراہمی ناگزیر ہے۔شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے دوحا فورم میں اپنے خطاب میں صہیونی ریاست اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی صدر نے کہا کہ اسرائیل اب غزہ میں جاری ہولناک قتل عام سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے خطے کے دیگر ممالک میں بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اب تک شام پر ایک ہزار سے زاید فضائی حملے کیے اور 400 سے زیادہ سرحدی دراندازیوں میں ملوث رہا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ غزہ جنگ بندی اسرائیلی فوج کے انخلا اور آزاد فلسطینی ریاست تک نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ جنگ بندی ابھی حتمی نہیں ہے اور اس کے ثمرات اس لیے نہیں مل رہے کیوں کہ یہ صرف غزہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مغربی کنارے اور فلسطینیوں کے اپنی خودمختار اور آزاد ریاست کے حق کا معاملہ ہے‘ امن تب ہی ممکن ہے جب اسرائیل مکمل طور پر غزہ سے اپنی افواج نکال لے، غزہ میں استحکام بحال ہو اور لوگوں کی آمد و رفت آزادانہ ممکن ہو۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے تحقیقاتی رپورٹ پر کہا کہ 7 اکتوبر 2023ء کے حملے کو روکنے کی ناکامی صرف فوج پر عاید نہیں ہوتی بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں کا شاخسانہ بھی تھا‘ سب سے زیادہ حماس کو پیسے سے خریدنے کا تصور تباہ کن ثابت ہوا‘ برسوں تک اسرائیلی حکومتوں خصوصاً وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں غزہ میں قطری رقوم بھیج کر حماس کو خاموش رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ ایال زمیر نے اسے ایک ’’گھمبیر غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکمتِ عملی نے حماس کو بڑے پیمانے پر عسکری تیاری اور مضبوطی کا موقع فراہم کیا جس کا مظاہرہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حملہ کرکے کیا۔ غزہ میں اسرائیلی حمایت یافتہ گینگ ’القوات الشعبیہ‘ نے اپنے سرغنہ کے قتل کے بعد حماس کو کھلی جنگ کی دھمکی دیدی۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ دھمکی گینگ کے نئے سربراہ غسان الدہینی نے دی جس نے یاسر ابوشباب کے قتل کا بدلہ حماس سے لینا کا اعلان کیا ہے۔ گینگ کے نئے سربراہ کا انٹرویو اسرائیلی ٹی وی چینل 12 پر نشر کیا گیا جس میں اس نے دھمکی دی کہ اسرائیلی انخلا کے بعد حماس سے کھلی جنگ کریں گے۔یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کایا کالاس کو ایک خط لکھا ہے جس میں اسرائیل جارحیت سے دور رہنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ 789 دن کی نسل کشی اور 58 سال کی غیر قانونی قبضے کے بعد ضروری ہے کہ یورپی پارلیمنٹ واضح پیغام دے کہ یورپ مزید شریک جرم نہیں رہ سکتا۔اسرائیل کا جنگی جنون ختم نہ ہوا، اسرائیلی کابینہ نے بجٹ 2026ء میں اسرائیلی افواج کے لیے 35 بلین ڈالر کی بھاری رقم مختص کردی۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے بجٹ کی منظوری دیدی، دفاع کے لیے 35 بلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں جو مجوزہ 28 بلین ڈالر کے مقابلے 25 فیصد زیادہ ہیں۔
مسلم ممالک

راصب خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں اسرائیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق انہوں نے حماس کو کے لیے نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم