غزہ میں ٹیکنوکریٹ انتظام کی حمایت کرتے ہیں: حماس
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس کے سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ غزہ میں ٹیکنوکریٹک انتظام کی حمایت کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کےمطابق حماس کے عہدیدار نے عرب خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ پر مزید حکومت کرنے کے خواہشمند نہیں ہے اور اگلے مرحلے میں انتظامی امور چلانے کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام پر پہلے ہی اتفاق کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ حماس نے ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے لیے تجویز کردہ تمام ناموں کی منظوری دے دی ہے اور اس فہرست پر اندرونی اتفاق رائے بھی ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت کے باوجود اسرائیل زمینی سطح پر طے شدہ اقدامات کے عملی نفاذ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
حماس عہدیدار نے کہا کہ جنگ کے بعد تعینات کی جانے والی کسی بھی بین الاقوامی فورس کا کردار صرف اور صرف جنگ بندی کی نگرانی تک محدود ہوگا، نہ کہ غزہ کے انتظام میں حصہ لینا، ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کا کام فریقین کو الگ رکھنا اور دوبارہ جھڑپوں کو روکنا ہوگا۔
حماس عہدیدار مزید بتایا کہ ثالث ممالک بھی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت تعینات ہونے والی کسی بھی بین الاقوامی فورس کو صرف نگرانی کا کردار دینے کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں 10 اکتوبر کو جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر مہلک حملوں سے شروع ہونے والی دو سالہ جنگ کو روک دیا۔ اس جنگ نے تنگ ساحلی پٹی غزہ کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔