صہیونی حکومت، جو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، اب حماس کو مورد الزام ٹھہرا کر اسے غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صہیونی حکومت، جو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، اب حماس کو مورد الزام ٹھہرا کر اسے غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے تاکید کی کہ غزہ میں ایک معتبر فلسطینی سول انتظامیہ اور ایک تربیت یافتہ پولیس فورس قائم کی جانی چاہیے۔ فیدان نے آج ہفتے کے روز دوحہ میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل عمل ہے۔

اس وقت یہ مسئلہ ترجیح نہیں رکھتا۔ غزہ کا معاہدہ تقریباً دو ماہ قبل قطر، مصر، ترکیہ اور امریکہ کی ثالثی سے طے پایا تھا، لیکن اس کے بعد سے صہیونی حکام نے غزہ کی سرحدی گزرگاہیں کھولنے اور بغیر کسی شرط کے انسانی امداد کے داخلے سے انکار کر رکھا ہے۔ ان غیر انسانی اقدامات کے ساتھ ساتھ، قابض فوج اپنی زیرِ کنٹرول علاقوں میں غزہ کے شہریوں کے گھروں کو مسلسل تباہ کر رہی ہے۔ ترکی نے کئی بار غزہ میں بین الاقوامی فورس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، لیکن اسرائیل، حماس سے ترکی کی قربت کے باعث، انقرہ کی کوششوں کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی عمل میں حماس کو غیر مسلح کرنا کسی صورت ترجیح نہیں۔ آخر میں فیدان نے کہا کہ ترکی غزہ میں امن منصوبے کے جلد از جلد نفاذ اور وہاں جاری انسانی المیے کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگ بندی معاہدے کے حماس کو رہی ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل