وزیر اعظم کے معاون اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ بس بہت ہو گیا اب پی ٹی آئی والوں کے ساتھ ریاست   مخالف عناصر کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر اختیار ولی خان  نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور تحریک انصاف کا ایک بڑا نیکسز ہے، ٹی ٹی پی والے پہلے ان سے بھتہ لیتے  تھے اور اب بھی بھتہ وصول کررہے ہیں۔

انہوں نے کاہ کہ کے پی کے میں منشیات فروشوں،  دہشت گردوں  اور سیاسی لوگوں کا  نیکسز ہے۔ اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ کابینہ میں ایسے لوگ ہیں جن کے بھائیوں کی گاڑیاں منشیات کے مقدمات میں بند ہیں۔ میرے خیال میں اب ان کے ساتھ ریاست مخالف عناصر کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا بس  بہت ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ  خیبر پختونخوا میں  گورننس نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، گزشتہ 13 سالوں سے  کے پی کے میں تو وزارتیں  بیچی جا رہی ہیں ، کے پی میں تعیناتیوں کے لیے پیسے   لیے جاتے ہیں، کے پی میں منشیات  کے مختلف  کاروبار وں  کے الگ الگ ریٹس ہیں۔

سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ  بن ہی گئے ہیں تو کیا اس لیے بنے  اپنی جماعت کے سارے کیسز ختم کریں، ان کے  اپنے لیے اور دوسرے کے لیے  قانون کے پیمانے الگ الگ ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن بالکل ہونا چاہیے ، کے پی میں آپریشن کے علاوہ  دوسرا آپشن کیا ہے ؟۔

کے پی میں گورنر راج  سے متعلق سوال کا  جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے لیے  آئینی  راستہ موجود ہے لیکن ہم  بطور سیاسی  ورکر اس کو پسند نہیں کرتے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ گورننس نہیں ہے،  ننھے کی دکان ہے ، یہ  گزشتہ 13 سالوں سے  صوبے  کو ایسے ہی چلا رہے ہیں، میں  خیبر پختونخوا  حکومت کو چیلنج کرتا ہوں، کے پی حکومت بتا دے کہ گزشتہ 13 سالوں میں کوئی ایک نئی یونیورسٹی بنائی ہو، کوئی نیا  اسکول ، کالج نیا بنایا ہو، سڑک ، پل بنایا ہو تو وہ ہی بتا دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • زندگی کا مقصد
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن