Express News:
2026-06-03@04:06:19 GMT

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی خدمت میں

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی نے جہاں وفاق کے لیے وسائل کے مسائل بڑھا دیے ہیں، وہاں اس صورت حال نے صوبوں کے انتظامی معاملات میں مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اب ہر صوبے کو دو یا تین یونٹوں میں تقسیم کرنے کی بات زور پکڑتی جا رہی ہے۔

آبادی میں اضافے اور وسائل کی تقسیم میں ناانصافی کی وجہ سے چند سال قبل پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ نئے صوبے کی تشکیل کے سلسلے میں کافی پیش رفت بھی ہوئی تھی مگر پھر حکومت بدل گئی اور نئے صوبے کا مسئلہ کھٹائی میں پڑگیا۔

اسی طرح خیبرپختونخوا میں صوبہ ہزارہ بنانے کا معاملہ بھی کافی آگے بڑھ گیا تھا مگر پھر اس کا معاملہ بھی ٹھپ ہو گیا۔ صوبہ بلوچستان میں پشتو بولنے والوں کا اور بلوچ دو صوبے بنانے کے کافی لوگ حامی ہیں مگر وہاں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے یہ معاملہ زیادہ آگے نہیں بڑھ سکا، صوبہ سندھ میں ایک نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کافی پرانا ہے۔

اس وقت آبادی میں اضافے کی وجہ سے تمام صوبوں میں انتظامی معاملات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اسی لیے نئے صوبے بنانے کا موضوع زیر بحث ہے۔

سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ نے نئے صوبے کی بحث پر اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے، وقت اور حالات کے مطابق یہ مطالبہ کبھی شدید اورکبھی نرم پڑتا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ملیر کراچی میں منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ جب انتظامی معاملات کی وجہ سے کراچی تقسیم ہو سکتا ہے تو صوبہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات بھی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی پہلے ہی سات انتظامی یونٹس میں تقسیم ہے تو پھر سندھ کے چھ ڈویژن کیوں نہیں بن سکتے؟ دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں ہے۔

انھوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کی تشکیل کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے کان سے نکال دیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ 27 ویں ترمیم میں لایا جانے والا تھا مگر اسے رد کر دیا گیا۔

اس بیان سے قبل مراد علی شاہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر ذرا بھی پریشان نہیں ہیں اور کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر ہم میں سے کوئی راضی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ اور پاکستان کے مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کرے گی۔ 

اب جہاں تک سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کے بنانے کا سوال ہے تو شاید کبھی بھی کسی کے ذہن میں نہ آتا اگر صوبے میں شہری علاقوں میں مسائل شدت اختیار نہ کر جاتے، شہری علاقوں کو نظرانداز کیا گیا جس سے شہروں کے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔

کاش کہ سندھ حکومت دیہی اور شہری علاقوں میں ترقی کے حوالے سے مثالی کردار ادا کرتی ۔ ہوا یہ ہے کہ شہری علاقوں میں تعلیم، ملازمت اور بجٹ (NFC) کی تقسیم میں مسائل کا سامنا ہے۔ مردم شماری پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ شہری عوام کو ملازمتوں میں کم سے کم کوٹہ ملتا ہے۔ ان وجوہات اور شہروں میں سڑکوں، پانی اور نکاسی آب کے مسائل نے شہری عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ ایم کیو ایم گوکہ لسانیت کی بنیاد پر قائم ہوئی مگر اس کے قیام سے قبل سندھ میں کئی بھی کئی قوم پرست سیاسی پارٹیاں موجود تھیں۔

ایم کیو ایم نے اپنے قیام کے وقت سے ہی مہاجروں کو حقوق دلانے کا نعرہ لگایا جس سے مہاجروں میں اسے پذیرائی ملی۔ یہ پارٹی مہاجروں کے ووٹوں سے کئی دفعہ حکومت کا حصہ بن چکی ہے مگر بدقسمتی سے اپنے وعدے ایفا کرنے میں کامیاب نہیں رہی ہے۔

گزشتہ دور میں یہ پارٹی کچھ نہ کر سکی تو تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ قیادت کی غیر سنجیدگی تھی۔ تاہم اب حالات بدلنے کے بعد اس پارٹی کی سب کے ساتھ مل کر چلنے والی پالیسی نے اسے بہت مقبول بنا دیا ہے۔

اس وقت سندھی، پنجابی، بلوچ، پٹھان، ہندکووال کے علاوہ کشمیری بھی اس کے ممبر ہیں کیونکہ یہ مہاجر سمیت تمام صوبوں کے مظلوم عوام کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی مظلوم لوگوں کی داد رسی کا ہی نتیجہ ہے کہ ماضی میں یہ آزاد کشمیر اسمبلی کی دو نشستیں جیت چکی ہے۔ ایم کیو ایم کشمیریوں کی بھارت سے آزادی کی سب سے بڑی علم بردار ہے۔ 

پیپلز پارٹی بھی ایک عوامی پارٹی کے طور پر ابھری ہے، یہ بھی معاشرے کے ہر طبقے کی ترجمان ہے مگر نچلے درجے کے عوام کے لیے اس کی خدمات بے مثال ہیں۔ صوبہ سندھ پیپلز پارٹی کا گؑڑھ صوبہ ہے۔

اس صوبے کے عوام کے حقوق کا خیال کرنا اولین فریضہ ہے مگر شہری علاقوں کے مسائل سے اس کی عدم دلچسپی سمجھ سے باہر ہے۔ اسے سندھ کے دیہی اور شہری عوام کو ایک آنکھ سے دیکھنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر سندھ کی حکومت چلاتی رہی ہے، اس وقت بھی دونوں پارٹیاں وفاقی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہیں۔

ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی سے بہت سی شکایتیں ہیں، وہ چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے شہری عوام کا بھی خیال کرے اور ان کی شکایتوں کا ازالہ کرے، پیپلز پارٹی کو شہری علاقوں سے لاتعلقی اختیار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ پیپلز پارٹی کے حامی لوگ بھی شہروں میں مایوسی اور غربت کا شکار ہیں، اگر یہ دونوں پارٹیاں سندھ کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کریں تو یقینا دیہی اور شہری کی تفریق ختم ہو سکتی ہے۔

بہرحال اب اس وقت جب کہ بھارت کی ہندو انتہاپسند حکومت سندھ پر نظریں جمائے بیٹھی ہے اور اس کا ایک وزیر سندھ کو بھارت سے ملانے کی بات کر رہا ہے تو دونوں پارٹیوں کو خبردار ہونا چاہیے اور اپنے اتحاد سے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تیار رہنا چاہیے،کیونکہ دونوں کی سیاست کا منبع سندھ ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ کی تقسیم شہری علاقوں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم شہری عوام کی وجہ سے بنانے کا عوام کو سندھ کے نے کہا کے لیے کی بات رہی ہے ایم کی

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری