Express News:
2026-07-24@05:34:55 GMT

انتہاپسندی اور پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ روز انتہائی اہم پریس کانفرنس کی ہے، اس پریس کانفرنس میں ملک کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز کے بارے میں بھی کھل کر اظہار خیال کیا ہے اور ملک میں جاری سیاسی بحث ومباحث اور بیانات کے حوالے سے بھی دوٹوک الفاظ میں مؤقف پیش کیا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عوام کو فوج کے خلاف بھڑکائے۔ مسلح افواج اور اس کی قیادت پر مزید حملے برداشت نہیں کیے جائیں اور ان کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔

انھوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ اس کا ’’بغیر دستانے پہنے‘‘ مقابلہ کیا جائے گا۔ پاکستان کی فوج کھڑی ہے، اور کھڑی رہے گی،ہم کہیں نہیں جا رہے۔ جب تک پاکستان ہے فوج رہے گی۔

پاکستان اور پاکستان کے باہر گزشتہ کچھ عرصے سے کچھ قوتیں بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے ایسا زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہیں جس کا مقصد پاکستان کے عوام میں مایوسی پھیلانا، انھیں یہ تاثر دینا کہ جیسے پاکستان ایک ناکام ریاست بن گیا ہے، عوام کو نظریاتی اعتبار سے کنفیوژ کرنا اور ان کے درمیان نفرتوں کے بیج بونا تاکہ وہ باہم دست وگریباں ہو جائیں۔

یہ قوتیں کون ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ اور یہ کہاں سے آپریٹ ہو رہی ہیں، اس کے بارے میں بہت سے حقائق آشکار ہو چکے ہیں جب کہ باقی بھی بتدریج آشکار ہوتے جائیں گے۔ پاکستان برسوں سے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔

انتہاپسندی نے بیرون ملک پاکستان کا چہرہ مسخ کیا ہے۔ افغانستان کا حکمران طبقہ برسوں سے پاکستان کے بارے میں زہریلا اور ذومعنی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ اس کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا۔

ماضی کی حکومتیں ہوں یا موجودہ طالبان حکومت، پاکستان کے حوالے سے سب کی ایک جیسی پالیسی رہی ہے اور سب کا مقصد پاکستان میں ایک مخصوص سوچ کو پروان چڑھانا، ایک مخصوص گروہ کی بالادستی قائم کرنا اور پاکستان کی طرف آبادی کے پھیلاؤ کا ہتھیار استعمال کرنا شامل ہے۔

پاکستان میں بھی ایک مخصوص گروہ بڑی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ اس پروپیگنڈے کا حصہ بنا ہے اور وہ اس پروپیگنڈے کو عوام پر مسلط کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں جب سردجنگ کا اختتام ہوا، تو حالات میں کچھ تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کا مسئلہ سامنے آیا تو پاکستان میں موجود یہ مخصوص گروہ پہلے درپردہ افغان مہاجرین کو پاکستانی دستاویزات دینے میں مدد فراہم کرتا رہا، انھیں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ فراہم کیے گئے، ووٹر لسٹوں میں ان کے نام شامل کیے گئے اور مہاجر کیمپوں میں سے انھیں نکالنے کے لیے ریاستی امور پر اثرانداز ہوئے۔

اس وجہ سے پاکستان میں آبادی کے تناسب میں بھی فرق پڑا اور پاکستان کے مختلف صوبوں کے اندر معاشی مسائل نے بھی جنم لیا جب کہ جرائم بھی بڑھے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں یہی طبقہ سہولت کاری کرتا رہا اور ریاست کی پالیسیوں پر اثرانداز ہو کر انتہاپسندی کو پروان چڑھاتا رہا۔ پاکستان کے وسائل کو استعمال کر کے یہ طبقہ بااثر ہوا اور پھر پاکستان کے عوام کے مفادات کے خلاف ہی کام کرنا شروع کر دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبرپختونخوا کے حوالے سے واضح کیا کہ کے پی میں دہشت گردی چل رہی ہے، مجھے بتادیں گزشتہ پانچ برس میں کے پی میں کس دہشت گرد کو پھانسی پر لٹکایا گیا؟

یہ کہتے ہیں آپریشن نہ کرو، دہشت گردوں سے مذاکرات کرو، کیڈٹ کالج وانا پر حملے کرنے والوں سے ہم کیا بات کریں؟ بلاشبہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے حوالے سے مختلف حکومتوں کی پالیسیاں ابہام اور کنفیوژن کا شکار رہی ہیں۔

پاکستان میں سیاسی سطح پر ہمیشہ اس بیانیے کو پروان چڑھایا گیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ پاکستان کی کئی حکومتوں نے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے لیکن اس کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

دہشت گرد پہلے سے بھی زیادہ طاقت پکڑتے چلے گئے۔ نجی وفود نے بھی کابل جا کر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے لیکن معاملہ پھر بھی حل نہ ہو سکا۔ اب بھی بعض قوتیں اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ پالیسی پاکستان اور اس کے عوام کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوئی ہے۔

ہزاروں بے گناہ پاکستانی خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں شہید ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے شہادت پائی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس قدر نقصانات کے باوجود بعض لوگ یا قوتیں آج بھی یہ کہتی ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔

یہ سوچ اور اپروچ کس کے لیے فائدہ مند ہے؟ دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوا ہو کہ کچھ قوتیں اپنے ہی ملک کے عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہوں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ ہمارا تعلق کسی ایلیٹ طبقے سے نہیں ہم مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، خود آرمی چیف ایک اسکول ماسٹر کے بیٹے ہیں، ہم عوام میں سے آئے ہیں، ہمارے افسران میں کوئی کلرک کا بیٹا ہے، کوئی کسی غریب آدمی کا بیٹا ہے، ہمارے افسران اور نوجوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہورہے ہیں، پاک فوج کا جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے، خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے؟

کون اپنی جانیں دیتا ہے؟ ہم نے جانیں دینا اور لینا ہوتی ہیں۔ اگر کوئی اپنی ذات اور اپنی نامناسب سوچ کے لیے فوج اور اس کی لیڈر شپ پر حملے کرتا ہے تو یہ عمل درست نہیں۔ ہم نے اس ریاست کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 9 مئی کے حملے محض تخریب نہیں بلکہ دشمن کے مفادات کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھے، فوجی عدالتوں میں 9 مئی کے مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں، جب کہ سول مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

ترجمان نے دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم دہراتے ہوئے کہا، فتنہ الخوارج سے بات چیت نہیں کریں گے۔ یہ لوگ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ صوبوں، خصوصاً خیبرپختونخوا میں سیاست کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری قابلِ مذمت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں جو باتیں کہی گئی ہیں اور جو نکات اٹھائے گئے ہیں، وہ قابل غور ہیں۔ پاکستان کی سالمیت، بقاء، تحفظ اور تعمیر وترقی کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا لازم ہو چکا ہے۔

پاکستان کے خلاف بیانیے کی جو جنگ مسلط کی گئی ہے، اس کو سمجھنا اور اس کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے اندر وہ قوتیں جو ایسا پروپیگنڈا کر رہی ہیں یا اس کا حصہ بن رہی ہیں جو پاکستان کے عوام کے اجتماعی مفادات کے خلاف ہیں، ان کا محاسبہ اور احتساب بھی ضروری ہو چکا ہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحد کو بند رکھنا اور اسے ایک فول پروف میکنزم کے طور پر آپریٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ غیرقانونی تجارت اور غیرقانونی دولت کا پاکستان کے اندر پنپنا اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں اور جرائم پیشہ گروہ اس غیرقانونی تجارت کے دو پہیے ہیں جنھیں چلانے والے وائٹ کالر کریمنلز کارٹلز ہیں۔ ان کے اتحاد کو توڑنا پاکستان کو بچانے کے لیے لازمی ہو چکا ہے۔ بلیک اکانومی پاکستان کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے۔

افغان ٹریڈ کے نام پر بلیک اکانومی کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح پاک ایران سرحد بھی فول پروف ہونی چاہیے۔ سمندری سرحدوں کی بھی بھرپور نگرانی ہونی چاہیے۔ پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کو ایک جدید اور ماڈریٹ ریاست بنانے کے لیے انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔

نصاب تعلیم میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ نصاب تعلیم میں موجود خامیاں دور کرنے کے لیے جدید ذہن کے اہل علم کے ذریعے نیا نصاب تعلیم تیار کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون سازی کے محاذ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے قوانین کا خاتمہ کیا جانا چاہیے جو تعمیر وترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں یا جو ایک مخصوص طبقے کی مراعات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔

پاکستان میں مڈل کلاس کو پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشیات کا اصول ہے کہ جب تک مڈل کلاس کا پھیلاؤ نہیں ہوتا، کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان میں مڈل کلاس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے لیے پرانے سماجی نظام میں اصلاحات لانا ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومتوں کو روایت شکن کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر کرنے کی ضرورت ہے کے ساتھ مذاکرات اور پاکستان پاکستان میں کے حوالے سے پاکستان کے پاکستان کی کے عوام کے مفادات کے ایک مخصوص مڈل کلاس رہی ہیں کے خلاف کیا ہے کے لیے اور اس

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار