WE News:
2026-07-24@01:58:06 GMT

ہانگ کانگ آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 146 ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

ہانگ کانگ آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 146 ہوگئی

ہانگ کانگ کے علاقے تائی پو میں واقع رہائشی عمارت وانگ فک کورٹ میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 146 ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ہانگ کانگ کی گزشتہ 70 برس کی سب سے مہلک آتشزدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 128، 200 افراد اب بھی لاپتا

ہانگ کانگ پولیس کے کیژولٹی یونٹ کی سربراہ شوک ین زینگ کے مطابق تقریباً 100 افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ 79 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلیٹس اور عمارتوں کی چھتوں سے لاشیں ملی ہیں اور عمارت کے اندر اندھیرا ہونے اور روشنی کی کمی کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

واقعے سے قبل عمارت کی مرمت جاری تھی اور اس کے گرد بانس کا اسکیفولڈنگ لگا ہوا تھا، بیرونی ڈھانچے پر نائلون نیٹ چڑھا ہوا تھا جبکہ کھڑکیوں پر پولی اسٹائرین پینلز نصب تھے، جس کے باعث آگ کی شدت بڑھی۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں ریکارڈ ہلاکت خیز آگ نے بانس اسکیفولڈنگ پر سوالات اٹھادیے

آتشزدگی کے بعد دو ڈائریکٹرز اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو سنگین غفلت کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی طور پر انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم بعد میں انسداد بدعنوانی حکام نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا، جس کے ساتھ 8 مزید افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

پولیس اب تک آگ سے متاثرہ چار عمارتوں کی تلاشی مکمل کر چکی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پورے علاقے کی سرچنگ مکمل کرنے اور باقی متاثرین کو تلاش کرنے میں مزید تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آتشزدگی چین رہائشی عمارت ہانگ کانگ ہلاکتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا تشزدگی چین رہائشی عمارت ہانگ کانگ ہلاکتیں ہانگ کانگ ا تشزدگی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری