طلبہ اور شعبہ جات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ وی سی جامعہ کراچی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جمعرات کے روز کلیہ فنون و سماجی علوم کی 20 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل نو تعمیر شدہ سینٹرلائزڈ کلاس رومز کی عمارت کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ جامعہ کراچی سعید احمد شیخ نے بتایا کہ کلیہ فنون و سماجی علوم کی نو تعمیر شدہ سینٹرلائزڈ کلاس رومز کی عمارت 20 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل ہے جو 175 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے۔ اس منصوبے کی فنڈنگ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے فراہم کی۔ ان کے مطابق عمارت کے گراؤنڈ فلور پر چھے جدید کلاس رومز تعمیر کیے گئے ہیں جن میں ہر ایک میں 40 سے 60 طلبہ کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک سیمسٹر ہال بھی قائم کیا گیا ہے جس میں ایک وقت میں 140 سے زائد طلبہ بیٹھ سکتے ہیں۔ عمارت کی پہلی منزل پر تین کلاس رومز اور تین کمپیوٹر لیبز قائم کی گئی ہیں جن میں مجموعی طور پرہر کلاس رومز میں 40 طلبہ بیک وقت کام کر سکتے اور بیٹھ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کلاس رومز
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔