صدر ٹرمپ زیرتعمیر سڑک کا جائزہ لینے مظفرآباد پہنچ گئے، آئی اے جنریٹڈ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ اور وائرل ہونے والی اے آئی جنریٹڈ ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی صدر کو مظفرآباد میں زیرِ تعمیر سڑکوں کا ’جائزہ‘ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایشوریا رائے کا یوٹیوب اور گوگل کیخلاف ہرجانے کا دعویٰ، سینکڑوں اے آئی ویڈیوز ہٹادی گئیں
ویڈیو میں صدر کو مقامی انداز میں مسلسل تبصرہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جس نے صارفین کو حیران اور محظوظ کیا ہے۔
ویڈیو میں صدر سڑک کا ’جائزہ‘ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مظفرآباد میں سڑک کی تعمیر دیکھنے آئے ہیں اور اگلی بار مانسہرہ کا دورہ کریں گے۔ ویڈیو کے مطابق وہ بعد ازاں ایبٹ آباد، ہری پور، اوگی، حویلیاں، بالاکوٹ اور گڑی حبیب اللہ جانے کا ’ارادہ‘ بھی ظاہر کرتے ہیں۔
ساتھ ہی صدر ٹرمپ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا دورہ پورے ہزارہ ڈویژن میں سڑکوں کی تعمیر کی کیفیت سے مشروط ہے۔
ویڈیو کا دلچسپ ترین حصہ اس کا اختتام ہے، جہاں امریکی صدر کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’گڈ بائے مانسہرہ‘ ۔۔۔ اور اس جملے کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بااثر شخصیات کی جرائم کرتے اے آئی ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا
سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو ہنسی مذاق کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں، جبکہ کئی لوگ اسے اے آئی کے تیزی سے ترقی کرتے رجحان کی ایک مزاحیہ مثال قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بحیرہ اسود میں یوکرین کے ڈرونز حملوں روسی ٹینکرز تباہ، ویڈیو وائرل
بحیر اسود میں روسی شیڈو فلیٹ کے 2 آئل ٹینکرز، Virat اور Kairos، ہفتہ اور جمعہ کو غیر انسانی سمندری ڈرونز اور دھماکوں کے ذریعے شدید نقصان کا شکار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
ترک حکام کے مطابق، جمعہ کی رات کو Kairos، جو گیمبیا کے پرچم تلے Novorossiysk روسی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا، 28 ناٹیکل میل (51 کلومیٹر) ترک ساحل سے دور، ’خارجی اثرات‘ کے باعث آگ پکڑ گیا۔ ٹینکر کے عملے کے تمام 25 افراد کو ترک کوسٹ گارڈ نے محفوظ طور پر نکال لیا۔
اس کے علاوہ گیمبیا کے پرچم تلے چلنے والے ٹینکر Virat نے جمعہ کی شب پہلے دھماکے برداشت کیے تھے اور ہفتہ کی صبح اسے دوبارہ غیر انسانی سمندری ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ای ایف پی کے مطابق یوکرین نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سیکیورٹی سروس آف یوکرین (SBU) اور یوکرین نیوی نے مل کر یہ حملہ انجام دیا اور جدید Sea Baby نیول ڈرونز کے ذریعے دونوں ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ روس کی آئل ٹرانسپورٹ پر ایک سنگین دھچکہ ہے، اور ٹارگٹ کیے گئے جہاز تقریباً 70 ملین ڈالر کے تیل لے جا سکتے تھے۔
مغربی پابندیوں کے تحت ٹینکرز
دونوں ٹینکرز مغربی پابندیوں کے تحت تھے کیونکہ انہوں نے روسی تیل کی ترسیل کی تھی، جو یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ یوکرین نے عالمی سطح پر روس کی شیڈو فلیٹ پر سخت اقدامات کی بھی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ بحیرہ اسود (بلیک سی) میں یہ کشیدگی روس اور یوکرین کے درمیان بحری تناؤ کے دوران بڑھتی جا رہی ہے، اور سمندر میں تیرتے ہوئے مائنز نے بھی متعدد خطوں کو متاثر کیا ہے، حتیٰ کہ بوسفورس تک۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحیرہ اسود بلیک سی ترکیہ ڈرون حملہ روس یوکرین