در فشاں سلیم کی 1 کروڑ روپے کی پینٹنگ تیار کرنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)مقبول اداکارہ در فشاں سلیم کی مختصر ویڈیو وائرل ہوگئی،جس میں وہ ایک کروڑ روپے مالیت کی پینٹنگ تیار کرنے سے متعلق بات کرتی دکھائی دیں۔
اداکار و ہدایت کار دانش نواز نے انسٹاگرام پر در فشاں سلیم کی مختصر ویڈیو شیئر کی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور صارفین نے بھی اس پر دلچسپ تبصرے کیے۔
مختصر ویڈیو میں دانش نواز دکھائی نہیں دیتے، تاہم وہ در فشاں سے بات کرتے سنائی دیتے ہیں۔
ویڈیو میں دانش نواز ساتھی اداکارہ در فشاں سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کس چیز کی پینٹنگ بنائی ہے؟
اس پر در فشاں سلیم وائٹ بورڈ پر لکیر نما تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک کروڑ روپے مالیت کی پینٹنگ تیار کی ہے۔
اداکارہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نایاب اور اچھی پینٹگز ایسے ہی فروخت ہوتی ہیں اور وہ ایسے ہی بنتی ہیں۔
دانش نواز نے ویڈیو میں وائٹ بورڈ پر موجود بلیو لکیر نما تصویر بھی دکھائی اور کہا کہ در فشاں نے یہ پینٹنگ بنائی ہے، جس سے متعلق ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک کروڑ روپے مالیت کی ہے۔
دونوں اداکاروں کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے، زیادہ تر صارفین نے در فشاں سلیم کی معصومیت کی تعریفیں کیں اور لکھا کہ ان کی بنائی گئی پینٹنگ واقعی ایک کروڑ روپے کی ہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔