Daily Mumtaz:
2025-11-30@08:40:36 GMT

پرینک ویڈیو کے لیے باوردی پولیس اہلکاروں کا استعمال شروع

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

پرینک ویڈیو کے لیے باوردی پولیس اہلکاروں کا استعمال شروع

لاہور میں یوٹیوبر کی پرینک ویڈیو نے پولیس کو نئی مشکل میں ڈال دیا۔ باوردی اہلکار نہ صرف یوٹیوبر کے ساتھ جعلی ریڈ میں شریک ہوئے بلکہ نوجوانوں کو تھپڑ مارنے اور جھوٹے الزامات لگانے تک بات پہنچ گئی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے یوٹیوبر کی پرینک ویڈیو میں حصہ لینے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے محکمہ پولیس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر نے اپنے دوستوں پر جعلی ریڈ کروایا۔

رپورٹس کے مطابق پولیس ناکے پر موجود اہلکار یوٹیوبر کے بلانے پر فوری طور پر پرینک میں شامل ہو گئے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ اہلکار اسلحہ اٹھائے یوٹیوبر کے ساتھ کارروائی کرتے رہے۔

یوٹیوبر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں نے نوجوانوں کو تھپڑ بھی مارے، جبکہ انہیں جوا کھیلنے کے جھوٹے الزام میں پکڑنے کا ڈراما رچایا۔ اہلکار نوجوانوں کو تھانے لے جانے کی دھمکیاں دیتے رہے، جس سے موقع پر موجود افراد شدید خوف میں مبتلا رہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوٹیوبر پورے جعلی آپریشن کی ریکارڈنگ بناتا رہا جبکہ پولیس اہلکار مکمل تعاون کر رہے تھے۔ یہ عمل اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

باوردی اہلکاروں کی اس حرکت نے پولیس کے پیشہ ورانہ معیار اور ذمہ داری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حفاظت پر مامور اہلکار اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ پرینک کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔ مزید کارروائی کے حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پولیس اہلکار ویڈیو میں

پڑھیں:

حسن اسکوائر پر پولیس اہلکاروں کی صحافی آیت اللہ طاہر کو گالیاںو دھمکیاں

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) حسن اسکوائر کے قریب پولیس اہلکاروں کی جانب سے رات گئے سناٹے میں کھڑے ہو کر عوام کو روک کر حراساں کرنے کے واقعات عام ہونے لگے۔ رات گئے ساڑھے 3 بجے مقامی اخبارکے سب ایڈیٹر آیت اللہ طاہر کو جب وہ اپنے دفتر سے چھٹی کرکے بائیکیا پر واپس اپنے گھر جارہے تھے کہ حسن اسکوائر پل کے نیچے سے یو ٹرن لیتے ہی اندھیرے میں کھڑے پولیس اہلکاروں نے روک کر تلاشی لی اور گریبان سے گھسیٹ کر موبائل میں بٹھا دیا، گالیاں اور دھمکیاں دیتے رہے جب کہ پولیس اہلکار موٹر بائیک کے تمام کاغذات دکھانے اور تمام شناخت کرانے کے باوجود تھانے لے جاکر ڈھنڈوں سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر طریقے سے حراساں کرتے رہے،پولیس اہلکاروں نے ایک گھنٹے کے بعد بلا وجہ معافی مانگ کر جانے کا کہا ’’ معافی مانگ لو اور چلے جائو‘‘۔ مقامی اخبار کے سب ایڈیٹر نے آئی جی ، ڈی آئی جی ، ایس ایچ اواور دیگر تمام متعلقہ افسران سے ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا روزانہ کا اسی روٹ سے آنا جانا ہے لہٰذا مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔قبل ازیں اسی مقام پر2 سے 3 مرتبہ چنگ چی سے اتار کر بھی تلاشی لینے اور بدتمیزی کرنے کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار

متعلقہ مضامین

  • لاہور، وردی کا وقار داؤ پر، پولیس اہلکار یوٹیوبرز کے آلہ کار بن گئے
  • یوٹیوبر ڈکی بھائی رہائی کے بعد اب کیا کریں گے؟ اہلیہ عروب جتوئی کا سوشل میڈیا پر اہم بیان
  • اسرائیلی فوجیوں کا گرفتاری دینے والے 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا واقعہ، ویڈیو منظرعام پر آگئی
  • بی جے پی کی کھلی بدمعاشی؛ بیوی بیٹی کیساتھ ویڈیو بنانے پر مسلم یوٹیوبر گرفتار
  • ’جوتا چھپائی‘ کی رسم، اطالوی مہمان نے جوتوں کی باقاعدہ نیلامی شروع کردی
  • حسن اسکوائر پر پولیس اہلکاروں کی صحافی آیت اللہ طاہر کو گالیاںو دھمکیاں
  • کراچی، ایس ایس پی ویسٹ کا بڑا اقدام، اے ایس آئی سمیت 11 پولیس اہلکار معطل
  • فرانس کی جیل سے 2 قیدی انوکھے انداز سے فرار؛ پولیس اہلکار حیران و پریشان
  • حسن اسکوائر میں رات گئے پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کی ہراسانی