کے پی حکومت کا وزیراعلیٰ اور عمران خان کی ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختون حکومت نے منگل کو وزیراعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اگر منگل کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ منگل کو تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہائی کورٹ جائیں گے، منگل کو عمران خان کی فیملی کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے، عمران خان کی بہنوں سے ملاقات نہ کرائی گئی تو دھرنا اور احتجاج ہوگا، عمران خان کی 4 نومبر سے فیملی کے ساتھ ملاقات نہیں ہورہی صحت سے متعلق تشویش موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے ماضی میں مسلم لیگ رہنما اپنے مجرم قائد سے لندن میں ملاقاتیں کرتے رہے، کابینہ نواز شریف سے لندن میں رہائش کے دوران مشورے کرتے تھے جبکہ حکومت عمران خان کے بیانات و تصویر سے خوفزدہ ہے، عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں ان کے بیانات روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے عوامی نمائندوں کو ووٹ عمران خان کی رہائی کے نام پر ملا، عوام کا واحد سوال یہی ہوتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کب ہوگی؟
وزیر اطلاعات کےپی نے مزید کہا کہ صوبے کو ضم اضلاع کے واجبات اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے فنڈز نہیں دیے گئے، تین ہزار ارب روپے این ایف سی، این ایچ پی، آئل گیس ریزرو وغیرہ کی مد میں واجب ہیں ، چار دسمبر کو این ایف سی اجلاس میں صوبہ بھرپور مقدمہ لڑے گا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان کی اڈیالہ جیل ملاقات نہ منگل کو
پڑھیں:
وزیر اعلیٰ کے پی کا راولپنڈی پر جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے راولپنڈی کے گورکھ پور ناکے پر جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا پے۔
ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ مشاورت میں منگل کو دوبارہ اڈیالہ آنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، فیملی ملاقات کے موقع پر کارکنوں کو بھی آنے کی کال دی جائے گی۔
محمود اچکزئی نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پی صبح بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کے معاملے پر ہائیکورٹ جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے اپوزیشن اتحاد کو دھرنے سے متعلق آگاہ ہی نہیں کیا، دھرنے کے چار گھنٹے بعد اپوزیشن اتحاد کی قیادت سے ریسکیو کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا، سہیل آفریدی چاہتے تھے کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرے۔