کورنگی صنعتی علاقے میں امن وامان کا قیام اولین ترجیح ہے، ایس ایس پی فدا حسین
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر ) کورنگی صنعتی علاقے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے، اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کی کارکردگی کو بہتر بنایا جارہا ہے۔کاٹی کی جانب سے امن و امان کی بہتری کے لیے دی گئی مثبت تجاویز پرعملدرآمد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہارایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین دانش خان، نائب صدر سید محمد طلحٰہ، سابق صدور مسعود نقی، جوہر قندھاری،ایس ایس پی شعبہ تفتیش محمدقیس خان،ایس پی شاہ فیصل ممتاز احمد ملک، ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سودھر، ڈی ایس پی کورنگی اسلم جویہ، ڈی ایس پی الفلاح فیصل خان اور ڈی ایس پی سعود آباد اعجاز احمد ترین سمیت کاٹی کے دیگر ممبران بھی موجود تھے۔ ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے مزید کہا کہ کورنگی انڈسٹریل زون نہایت اہم اور کراچی کا معاشی حب ہے،جو کہ ملکی خزانے میں 60 فیصد سے زائد حصہ جمع کرتا ہے۔ایس ایس پی کورنگی نے مزید کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں ٹریفک کی روانی کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹی سے باہمی مشاورت اور تعاون سے جرائم کا خاتمہ کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجاویزات اور قبضہ مافیا کے سدباب کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہیں۔ تقریب میں کاٹی کے صدر اکرام راجپوت نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال میں مثبت بہتری آئی ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے صنعتی علاقوں میں جرائم کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کورنگی ضلع میں پولیس کی نفری بڑھانے کے ساتھ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ پولیس اہلکار بڑی آبادی والے ڈسٹرکٹ میں مؤثر طریقے سے امن و امان کو برقرار رکھ سکیں۔ صدر کاٹی نے کہا کہ اسٹریٹ کرائمز، بھتہ خوری، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اکرام راجپوت نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں سڑکوں کے کناروں پر قائم غیر قانونی ہوٹلز جرائم پیشہ عناصر کو محفوظ پناہی گاہیں فراہم کر رہی ہیں، ان کے خلاف فوری کاروائیاں کی جائیں۔ صدر کاٹی نے کہا کہ پولیس کی صلاحیت اور استعداد کو بڑھانے کے لیے نفری میں اضافہ کیا جائے۔ ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہ کہ کورنگی میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کی آڑ میں بہت سی نام نہاد تنظیمیں اور ان کے کارندے صنعتوں میں موجود ہیں جو صنعتکاروں کو بلیک میل کرنے کے لیے ڈرا دھمکا کر بھتہ اور ہراساں کرنے میں ملوث ہیں، ایسے عناصر کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں نفری کی کمی کے باعث نیبر ہڈ کیئر پروجیکٹ کا آغاز کیا جس میں نجی گارڈز کی خدمات حاصل کرکے نفری کی کمی کو پورا کیا۔ یہ ماڈل انتہائی کامیاب اور جرائم پر قابو پانے میں سود مند ثابت ہوا ہے۔ کاٹی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دانش خان نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں ہر روز تقریباً 15 لاکھ افراد روزگار کے لیے آتے ہیں، انہیں امن ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے جرائم کی شرح میں کمی ہوئی ہے تاہم اسٹریٹ کرائم ابھی بھی قابو سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکیتی مزاحمت پر بے دریغ قتل کرنے کے واقعات انتہائی دکھ اور تشویش کا باعث بن رہے ہیں، بینکوں سے رقم نکلوانے والوں کا تعاقب کرکے انہیں لوٹ لیا جاتا ہے، جس کا فوری سدباب انتہائی ضروری ہے تاکہ لوگوں کا پولیس پر اعتماد بحال ہو تاکہ پولیس کی موجودگی سے عوام میں تحفظ کا احساس بڑھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کورنگی انہوں نے کہا کہ ایس پی کورنگی ایس ایس پی ڈی ایس پی کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔