Islam Times:
2026-07-24@07:27:36 GMT

غزہ میں ایندھن کی ترسیل میں صہیونی رکاوٹیں

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

غزہ میں ایندھن کی ترسیل میں صہیونی رکاوٹیں

غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک طے شدہ 660 ٹرکوں میں سے اسرائیلی حکام نے صرف 104 ٹرکوں کو، جو کھانا پکانے کی گیس لے کر آ رہے تھے، غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے، جو کہ غزہ کی پٹی کی حقیقی ضرورت کا صرف 16 فیصد بنتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک طے شدہ 660 ٹرکوں میں سے اسرائیلی حکام نے صرف 104 ٹرکوں کو، جو کھانا پکانے کی گیس لے کر آ رہے تھے، غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے، جو کہ غزہ کی پٹی کی حقیقی ضرورت کا صرف 16 فیصد بنتا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر نے آج ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ کھانا پکانے کی گیس کی شدید قلت نے تقریباً 24 لاکھ شہریوں کے لیے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ یہ شہری روزمرہ زندگی کے لیے، جن میں گھریلو استعمال، نانوائیوں، اسپتالوں اور عوامی کچنوں کی سرگرمیاں شامل ہیں، گیس پر انحصار کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق، صرف 104 ٹرکوں کا داخل ہونا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ طے شدہ معاہدے اور صہیونی قابضین کے عملی اقدامات کے درمیان ایک بہت بڑا فرق موجود ہے، جس کے باعث تقسیم کا نظام تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور شہریوں کو گیس کا کوٹہ ملنے کا دورانیہ تقریباً 3 ماہ تک بڑھ چکا ہے۔ اس فلسطینی ادارے نے واضح کیا کہ تقسیم کا عمل ایک سافٹ ویئر سسٹم کے ذریعے ہر صوبے میں رجسٹرڈ خاندانوں کی تعداد کی بنیاد پر انجام دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے انصاف کو یقینی بنایا جاتا ہے اور بار بار درخواست دینے سے روکا جاتا ہے۔ ہر خاندان کو ہر تقسیم مرحلے میں 8 کلوگرام کھانا پکانے کی گیس فراہم کی جاتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اب تک صہیونی قابضین کی جانب سے نہایت قلیل مقدار میں گیس داخل کرنے کی اجازت دیے جانے کے باعث، سسٹم میں رجسٹرڈ 4 لاکھ 70 ہزار خاندانوں میں سے صرف 2 لاکھ 52 ہزار خاندان ہی گیس حاصل کر سکے ہیں۔ غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر نے آخر میں خبردار کیا کہ اس روش کے جاری رہنے سے سینکڑوں ہزار خاندان اپنے بنیادی ترین ضروریات سے بھی محروم رہ جائیں گے، اور اس بات پر تاکید کی کہ غزہ کے باشندوں کو فراہم کی جانے والی حیاتیاتی خدمات میں رکاوٹ اور بحران میں اضافہ کرنے کی مکمل ذمہ داری صہیونی قابضین پر عائد ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ