ہری پور: ضلعی انتظامیہ کی افغان مہاجر کیمپوں میں بجلی کی ترسیل بند کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
ہری پور میں افغان مہاجرین کے انخلاء کے لیے ضلعی انتظامیہ نے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے افغان مہاجر کیمپوں میں بجلی کی ترسیل بند کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ ہزارہ الیکٹرک سپلائی نے افغان مہاجر کیمپوں سے واپڈا تنصیبات ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے، افغان مہاجر کیمپوں سے ٹرانسفارمر اور بجلی کے میٹر اتارے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ نے کہا کہ ہری پور میں 20 کے قریب افغان مہاجر کیمپ موجود ہیں، غیرقانونی افغان مہاجرین کو رہائش دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان مہاجر کیمپوں
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘