Islam Times:
2026-07-24@04:58:45 GMT

اسرائیلی انخلاء کے بغیر غزہ جنگبندی مکمل نہیں ہوگی، قطر

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

اسرائیلی انخلاء کے بغیر غزہ جنگبندی مکمل نہیں ہوگی، قطر

اپنی ایک تقریر میں قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت نازک موڑ پر ہیں۔ غزہ کی موجودہ صورتحال کو جنگبندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ دوحہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے کہا کہ ہم اس وقت نازک موڑ پر ہیں۔ غزہ کی موجودہ صورت حال کو جنگ بندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جنگ بندی صرف اور صرف اسرائیل کے مکمل انخلاء و غزہ میں استحکام کے بعد ہی عمل میں آئے گی۔ ابھی تک غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ نافذ نہیں ہوا۔ جس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلاء، عبوری کمیٹی کے ذریعے اس پٹی کا انتظام چلانا اور بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی شامل ہے۔ واضح رہے کہ قطری وزیراعظم کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب مصر، ترکیہ اور امریکہ کی ثالثی سے غزہ میں 2 ماہ سے جنگ بندی کا معاہدہ قائم ہے۔ تاہم اس معاہدے کے باوجود ابھی تک رفح کراسنگ بند ہے جب کہ بلامشروط انسانی امداد، اس پٹی میں داخلے کے لئے صیہونی اجازت کی منتظر ہے۔

ان خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ قابض فورسز، فلسطینیوں کی املاک کو منظم انداز میں تباہ کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے پاس قطر کی وزارت خارجہ کا قلمدان بھی ہے۔ دوسری جانب اسی کانفرنس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ "حکان فیدان" نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔ جن میں اس فورس کی کمانڈ اور شریک ممالک کے بارے میں بات چیت کی جا رہی ہے۔ ترکیہ متعدد بار غزہ میں تعینات ہونے والی امن فورس کا حصہ بننے کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے، لیکن اسرائیل، انقرہ کی حماس کے ساتھ قربت کی وجہ سے اس دلچسپی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم