اسرائیلی انخلاء کے بغیر غزہ جنگبندی مکمل نہیں ہوگی، قطر
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اپنی ایک تقریر میں قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت نازک موڑ پر ہیں۔ غزہ کی موجودہ صورتحال کو جنگبندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ دوحہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے کہا کہ ہم اس وقت نازک موڑ پر ہیں۔ غزہ کی موجودہ صورت حال کو جنگ بندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جنگ بندی صرف اور صرف اسرائیل کے مکمل انخلاء و غزہ میں استحکام کے بعد ہی عمل میں آئے گی۔ ابھی تک غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ نافذ نہیں ہوا۔ جس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلاء، عبوری کمیٹی کے ذریعے اس پٹی کا انتظام چلانا اور بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی شامل ہے۔ واضح رہے کہ قطری وزیراعظم کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب مصر، ترکیہ اور امریکہ کی ثالثی سے غزہ میں 2 ماہ سے جنگ بندی کا معاہدہ قائم ہے۔ تاہم اس معاہدے کے باوجود ابھی تک رفح کراسنگ بند ہے جب کہ بلامشروط انسانی امداد، اس پٹی میں داخلے کے لئے صیہونی اجازت کی منتظر ہے۔
ان خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ قابض فورسز، فلسطینیوں کی املاک کو منظم انداز میں تباہ کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے پاس قطر کی وزارت خارجہ کا قلمدان بھی ہے۔ دوسری جانب اسی کانفرنس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ "حکان فیدان" نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔ جن میں اس فورس کی کمانڈ اور شریک ممالک کے بارے میں بات چیت کی جا رہی ہے۔ ترکیہ متعدد بار غزہ میں تعینات ہونے والی امن فورس کا حصہ بننے کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے، لیکن اسرائیل، انقرہ کی حماس کے ساتھ قربت کی وجہ سے اس دلچسپی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔