غزہ جنگ بندی اسرائیلی فوج کے انخلا اور آزاد فلسطینی ریاست تک نامکمل ہے؛ قطر
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
قطر کا سالانہ بین الاقوامی مکالماتی پلیٹ فارم دوحہ فورم کا 23 واں اجلاس شروع ہوگیا جس میں شام اور گھانا کے صدور، قطر اور لبنان کے وزرائے اعظم، اور ترکیہ کے وزیر خارجہ سمیت درجنوں رہنما شامل ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ غزہ میں 10 اکتوبر سے شروع ہونے والی سیز فائر صرف ایک وقفہ ہے، یہ مکمل جنگ بندی نہیں ہے۔
انھوں نے اسرائیل فلسطین تنازع کے اصل اسباب کو حل کیے بغیر پائیدار امن کے حصول کو ناممکن قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ محض غزہ میں سیز فائر کے ذریعے خونریزی کو روک دینا کافی نہیں بلکہ فلسطینیوں کے ریاستی حقوق اور مغربی کنارے سمیت تمام تنازعات کو حل کرنا ہوگا جس کے لیے تنازع کی جڑ کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ غزہ جنگ بندی ابھی حتمی نہیں ہے اور اس کے ثمرات اس لیے نہیں مل رہے کیوں کہ یہ صرف غزہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مغربی کنارہ اور فلسطینیوں کے اپنی خودمختار اور آزاد ریاست کے حق کا معاملہ ہے۔
انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ قطر اور امریکا مل کر ایک ایسے امن وژن کو آگے بڑھائیں گے جو دونوں قوموں کے لیے انصاف اور دیرپا امن کی بنیاد بنے گا۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ یہ تب ہی ممکن ہے جب اسرائیل مکمل طور پر غزہ سے اپنی افواج نکال لے، غزہ میں استحکام بحال ہو اور لوگوں کی آمد و رفت آزادانہ ممکن ہو۔
انھوں نے شکوہ کیا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود رفح کراسنگ کھولنے میں تاخیر کی جسے امریکی امن منصوبے میں ضروری قرار دیا گیا تھا۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ قطر، ترکیہ، مصر اور امریکا جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ جس میں ایک ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت کی تشکیل اور بورڈ آف پیس کا قیام بھی شامل ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دوسرا مرحلہ بھی عارضی ہوگا کیونکہ حقیقی مسئلہ غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے اور فلسطینی ریاست کے حق کا ہے۔
قطری وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی حماس سے براہِ راست بات چیت نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی میں بریک تھرو دیا۔
حماس کی میزبانی کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ قطر محض ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تاکہ فریقین بات کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی ایک طرف ہیں۔ ہمارا کردار مذاکرات کو جاری رکھنا اور مثبت نتائج تک پہنچانا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ قطر کے سب سے سخت ناقد وہی ممالک ہیں جو بحران کے وقت قطر سے ثالثی کی درخواست کرتے ہیں۔ جس میں اشارہ اسرائیل کی طرف تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔