عمران خان اور بہنوں کا متنازع بیان، پاکستان تحریک انصاف نے لاتعلقی کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی بہنوں کے حالیہ متنازع بیان کو پارٹی مؤقف نہ سمجھا جائے، وہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ پہلے منگل کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے باقاعدہ ملاقات ہوا کرتی تھی، جس میں چند گھنٹوں میں تمام معاملات طے ہو جاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مطلب ہرگز درخواستیں کرنا نہیں، اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی سہولت کے لیے کوئی اضافی رعایت نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا قانونی حق ہے کہ ان کے بیٹے ان سے ملاقات کریں، جبکہ بیٹیوں کو بھی زیرِ سماعت مقدمات کے باوجود والد سے نہ ملنے دینا کسی قانونی یا اخلاقی اصول کے مطابق نہیں۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق اب صورتحال اس نہج پر پہنچا دی گئی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں روکنے کی ذمہ داری ریاست کے چند مخصوص حلقوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے اپریل میں فیصلہ کیا کہ ملاقاتیں محدود کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتیوں کو قانون نہیں بلکہ مرضی کے مطابق اندر آنے دیا جا رہا ہے، جسے چاہیں اجازت مل جاتی ہے اور باقی سب کو روک دیا جاتا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہاکہ لوگ یکجہتی کے لیے آتے ہیں، اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو تنہا چھوڑنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہمارے اختیار میں نہیں، اس لیے پارٹی کو ان کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی بہنوں کی گفتگو کو پارٹی کا سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے، یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کوئی سینسر بورڈ نہیں، اس لیے جو کچھ خان صاحب کہتے ہیں، وہی جوں کا توں باہر پہنچایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج بھی کسی کی ملاقات نہیں ہو سکی، جس کے خلاف ان کی بہنوں اور پارٹی کارکنوں نے اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دے رکھا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اظہار لاتعلقی بہنیں ذاتی رائے سلمان اکرم راجا سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی عمران خان متنازع بیان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اظہار لاتعلقی ذاتی رائے سلمان اکرم راجا سیکریٹری جنرل پی ٹی ا ئی متنازع بیان وی نیوز بانی پی ٹی آئی عمران خان سلمان اکرم راجا کہ بانی پی ٹی انہوں نے کی بہنوں
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔