حکومت کا عمران خان کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور WhatsAppFacebookTwitter 0 10 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) کوآرڈینیٹراطلاعات خیبرپختونخوا اختیارولی خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اور امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کی۔
خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے روزانہ احتجاج کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے اور پارٹی اس بات پر مضر ہے کہ قیدی نمبر 804 کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کیا جائے۔
اختیار ولی خان نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور احتجاج کے نام پر فتنے اور فساد پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ملکی وقار اور ترقی پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے افواج پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وقار کو دنیا بھر میں بلند کیا گیا اور مشکل وقت میں ایران اور قطر کے ساتھ کھڑا رہا۔
اختیار ولی کا کہنا تھا کہ سیاست میں مذہب کا استعمال ہو رہا ہے اور یہ لوگ اپنی سیاست کے لیے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 13 سال میں کوئی یونیورسٹی یا اسپتال نہیں بنایا گیا، عوام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اور دو وزرا کی گاڑیاں منشیات کی وجہ سے تھانوں میں بند ہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے ساتھ چلنے اور اس کے خلاف چلنے والوں کے درمیان واضح لکیر کھینچنی ہوگی، یہ لوگ وفاق پر حملہ آورہوئے، یہ لوگ سیاسی شہیدبنناچاہتےہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچاتی رہی، 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات اس کی مثال ہیں، اور پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور اسرائیل سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹیسٹ ٹوئنٹی نوجوان کرکٹرز کے لیے عالمی پلیٹ فارم بن گیا ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد ہائیکورٹ: وقاص احمد کی مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ مسلسل غیر حاضری پر علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ٹیرف میرا پسندیدہ لفظ ہے اس سے ملک میں اربوں ڈالر آ رہے ہیں، صدر ٹرمپ اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور اختیار ولی خان نے کے کوا رڈینیٹر پی ٹی ا ئی رہے ہیں کے لیے یہ لوگ کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان