Islam Times:
2026-06-03@07:14:42 GMT

یمن میں نیا فتنہ

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

یمن میں نیا فتنہ

اسلام ٹائمز: جنوبی یمن نامی ایک ملک یمن میں 27 سال سے موجود ہے۔ جنوبی یمن 1967ء میں برطانوی اثر و رسوخ کے خاتمے کے بعد "پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف یمن" کے نام سے قائم ہوا تھا اور اسے عرب دنیا کی واحد مارکسی حکومت سمجھا جاتا تھا۔ اسے برسوں سے ملک کے اندرونی بحرانوں، دھڑے بندیوں اور شمالی یمن کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا رہا۔ بین الاقوامی تبدیلیوں اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد، دونوں یمنوں نے 1990ء میں اتحاد کا عمل شروع کیا اور ایک سرکاری معاہدے پر دستخط کے ساتھ، "جمہوریہ یمن" کا قیام عمل میں آیا۔ تاہم، سیاسی کشیدگی جاری رہی اور 1994ء میں خانہ جنگی کا باعث بنی، لیکن شمال جیت گیا اور یمن کا متحد ڈھانچہ قائم ہوا۔ اگرچہ جنوب اور شمال کے درمیان تقسیم اب بھی باقی ہے۔ تحریر: رضا دھقانی

متحدہ عرب امارات کے کرائے کے فوجیوں نے یمن کو تقسیم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر دھرنوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس علیحدگی پسند گروپ (جنوبی عبوری کونسل)، جو یو اے ای کے ساتھ منسلک ہے، اس نے ایک بیان میں اپنے تمام حامیوں سے مختلف شہروں میں دھرنے دینے اور جنوبی یمنی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے ساتھ منسلک "جنوبی عبوری کونسل" گروپ نے کل رات گئے ایک بیان میں اپنے تمام حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "عدن"، "مکلہ" (صوبہ حضرموت کا دارالحکومت) اور الغایدہ (صوبہ المہرہ) سمیت مختلف شہروں میں دھرنے دیں اور یمن سے علیحدگی کا مطالبہ کریں۔ بیان میں، گروپ نے اپنے حامیوں سے شہر کے اہم چوکوں میں آج اتوار کی صبح سے خیمے لگانے کا مطالبہ کیا۔

یہ کال، جسے اپنی نوعیت میں بے مثال سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ یمن کے 70 فیصد سے زائد تیل کے ذخائر پر مشتمل صوبہ حضرموت میں ناامنی کا باعث بن سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں عبوری کونسل کے عناصر اور ریاض سے وابستہ حکومت اور صوبہ حضرموت کے قبائل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق، SNC فورسز نے 2 دسمبر 2025ء کو "مستقبل کا وعدہ" کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کیا اور اسٹریٹجک شہر سیون، وادی حضرموت کے اہم فوجی اور شہری مراکز اور یہاں تک کہ تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آپریشن، جسے SNC نے "سکیورٹی کی بحالی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک ضروری قدم" کے طور پر بیان کیا ہے، اسے حکومت کی حامی فورسز اور مقامی قبائل کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن SNC عناصر اب تک برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یہ لڑائی 30 نومبر کو شروع ہوئی تھی اور اس میں بھاری گولہ باری، بھاری ہتھیاروں کا استعمال اور شہری ہلاکتیں شامل ہیں۔ SNC کا دعویٰ ہے کہ پیش قدمی خطے میں القاعدہ، ISIS اور انصار اللہ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تھی، جبکہ حکومت کے حامی اہلکار اسے "مسلح بغاوت" کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ دوسری جانب کشیدگی میں اضافے کے درمیان سعودی وفد ثالثی کے لیے خطے میں داخل ہوا اور بظاہر چار روز قبل متحارب فریقوں کے ساتھ ایک عارضی معاہدہ طے پایا، جو کہ اب تک صرف کاغذوں پر ہی رہ گیا ہے۔ ادھر ریاض سے وابستہ حکومت کے سربراہ عدن سے فرار ہوگئے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ باخبر ذرائع نے کل اطلاع دی کہ "یمن صدارتی کونسل" (ریاض کے ساتھ منسلک) کے نام سے مشہور تنظیم کے سربراہ رشاد العلیمی نے عدن کے علاقے الماشیق میں واقع صدارتی محل کو اچانک چھوڑ دیا اور اس روانگی کے ساتھ دفتر کا مکمل انخلاء اور دستاویزات کی منتقلی بھی شامل ہے۔

Arabi21 ویب سائٹ کے مطابق العلیمی کے عملے نے ان کی روانگی سے قبل حساس دستاویزات اور فائلوں کو جلا دیا اور صدارتی محل سے منسلک ہتھیاروں اور گاڑیوں کو محل سے ہٹا دیا۔ ایک ایسی کارروائی جو ہنگامی حالت اور عدن حکومت سے وابستہ سکیورٹی ڈھانچے کے سقوط کے امکان کی نشاندہی کر رہی ہے۔ دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ افواج کی پیش قدمی کے جواب میں، حضرموت قبائل کے گرینڈ الائنس نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے، UAE کو صوبہ حضرموت میں فوجی جھڑپوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ حضرموت اور المہرہ صوبوں میں وسیع پیمانے پر دھرنے اور فوجی مہم کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے، جنوبی عبوری کونسل نے ہمیشہ جنوب کو شمال سے الگ کرنے پر زور دیا ہے اور اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے وسیع مالی اور ہتھیاروں کی مدد سے فائدہ اٹھایا ہے۔

جنوبی یمن نامی ایک ملک یمن میں 27 سال سے موجود ہے۔ جنوبی یمن 1967ء میں برطانوی اثر و رسوخ کے خاتمے کے بعد "پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف یمن" کے نام سے قائم ہوا تھا اور اسے عرب دنیا کی واحد مارکسی حکومت سمجھا جاتا تھا۔ اسے برسوں سے ملک کے اندرونی بحرانوں، دھڑے بندیوں اور شمالی یمن کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا رہا۔ بین الاقوامی تبدیلیوں اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد، دونوں یمنوں نے 1990ء میں اتحاد کا عمل شروع کیا اور ایک سرکاری معاہدے پر دستخط کے ساتھ، "جمہوریہ یمن" کا قیام عمل میں آیا۔ تاہم، سیاسی کشیدگی جاری رہی اور 1994ء میں خانہ جنگی کا باعث بنی، لیکن شمال جیت گیا اور یمن کا متحد ڈھانچہ قائم ہوا۔ اگرچہ جنوب اور شمال کے درمیان تقسیم اب بھی باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات عبوری کونسل صوبہ حضرموت کا مطالبہ کے نام سے قائم ہوا اور شمال کے ساتھ اور اس کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟