عمران خان کو دی جانے والی سہولیات کے جائزے کا معاملہ ، پی ٹی آئی نے حکومت کی پیشکش قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
عمران خان کو دی جانے والی سہولیات کے جائزے کا معاملہ ، پی ٹی آئی نے حکومت کی پیشکش قبول کرلی WhatsAppFacebookTwitter 0 8 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی پیشکش قبول کر لی۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر رانا ثنااللہ کی جانب سے دی گئی پیشکش کو پی ٹی آئی نے قبول کر لیا جس میں بانی چیئرمین عمران خان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اکثریتی اراکین نے اس فیصلے کی حمایت کی، ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں پی ٹی آئی کے وکلا، سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی کو شامل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر کمیٹی تشکیل دینے کی پیشکش کی تھی جسے اب پی ٹی آئی کی قیادت نے قبول کرلیا ہے۔
پی ٹی آئی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی رانا ثنااللہ ہی کریں گے جبکہ پی ٹی آئی کے نمائندے اور وکلا کمیٹی کے ہمراہ جیل جا کر سہولیات کا براہِ راست جائزہ لیں گے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ انہیں واضح طور پر دکھایا جائے کہ ان کے بانی چیئرمین کو جیل میں کون کون سی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرطانوی عدالت کے جج نے معروف یو ٹیوبر عادل راجہ کو سزا سنا دی، جرمانے اور راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم برطانوی عدالت کے جج نے معروف یو ٹیوبر عادل راجہ کو سزا سنا دی، جرمانے اور راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے... ایبٹ آباد میں اغوا ہونے والی ڈاکٹر کی چار روز بعد لاش مل گئی، ہسپتالوں میں ہڑتال وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی طے پا گئی الیکشن کمیشن نے کوئی سرٹیفکیٹ جاری کیے بغیر پی ٹی آئی پر پابندی کیسے لگائی؟، بیرسٹر گوہر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک فضائی استقبال ممبر ایڈمن سی ڈی اے طلعت محمود سے چینی بلیو اسکائی ریسکو فانڈیشن کی ٹیم کی ملاقات،باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دی جانے والی پی ٹی آئی نے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :