پی ٹی آئی رہنماؤںکے بیرون ممالک جانے پر پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے 9 مئی کے مقدمات کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے بیرون ممالک جانے پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیاسی رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور فہرست میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، عمر ایوب، فواد چودھری، شبلی فراز، علی امین گنڈا پور، شہریار آفریدی، عثمان ڈار، شیریں مزاری، زرتاج
گل، مسرت چیمہ اور کنول شوزب، شیخ رشید، شیخ راشد، میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کے نام شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ راجا بشارت اور واثق قیوم عباسی سمیت دیگر شخصیات پر بھی بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے فہرست سمیت وفاقی حکومت کو سفارشات بھجوائی تھیں، جس کے بعد 9 مئی کے فسادات کے تناظر میں نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا، ای سی ایل کمیٹی نے سفارشات وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے بھجوائی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔