طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کا اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کا اشارہ دے دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ یہ اگر اب اڈیالہ کے باہر تماشا کریں گے، جیل میں قید دوسرے قیدیوں کیلئے خطرہ بنیں گے تو ایک قیدی کو منتقل کر دیا جائے گا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی فوج اور اس کے سربراہ کو بلیک میل کرکے دوبارہ اقتدار اور کیسز ختم کروانا چاہتے ہیں، انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے کندھوں کو استعمال کیا، اگر فیض نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی وزیر اعظم تو کیا کونسلر بھی نہیں بن سکتے تھے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بھی اپنے بانی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، بانی پی ٹی آئی بھی وہی سب کچھ کر رہے ہیں جو بانی ایم کیو ایم کرتے تھے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ اڈیالہ سمیت جہاں بھی انتشار پھیلایا گیا، وہاں قانون حرکت میں آئے گا، خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کب تک کوئی خاموشی اختیار کرسکتا ہے، ہر روز بانی پی ٹی آئی کے ایکس ہینڈل سے ملکی اداروں کے خلاف بے جا تنقید کی جاتی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی بھی اسرائیل کو برا نہیں کہا اور نہ ہی کبھی بھارت کے خلاف کوئی بات کی ہے۔ اس جماعت کا وتیرہ ہے کہ پاکستان کے اداروں پر تنقید کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کب تک ان کی باتوں اور تنقید کو نظر انداز کیا جائے گا، یہ اس لائق نہیں کہ ان کی کسی بات کا جواب دیا جائے، ان کی حیثیت بنی گالہ کے شیرو سے زیادہ نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔