اسلام آباد(نیوزڈیسک ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب انتشار پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بے جا تنقید کے باوجود فوج نے طویل عرصے برداشت کیا اور پی ٹی آئی کی بار بار کی الزام تراشیوں پرادارے کو جواب پر دینا پڑا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ماضی میں مذاکرات کی پیشکش ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اور اگر اب اگر اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی جاری رہی تو قیدی کہیں اور منتقل کردیے جائیں گے ، خبردار کیا کہ آئیں کریں اڈیالہ کے باہر شعبدہ بازی تو آپ کو بتائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے پشاور میں پی ٹی آئی کے جلسے کا اصل حال دیکھ لیا، جو گالم گلوچ اور تنقید کے سوا کچھ نہیں تھا، پاکستان کے اداروں پر تنقید اس جماعت کا مستقل وطیرہ ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ جلسے میں معرکہ حق میں دشمن کو شکست دینے والی پاک فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، واضح کیا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کررہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ دوسروں کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کندھے نہ ہوتے تو یہ وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے تھے، ہر روز پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں سے بھی ملکی اداروں کے خلاف بے جا تنقید کی جاتی ہے۔

سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میل کرنے کے لیے کی جارہی ہے، بانی پی ٹی آئی نے کبھی اسرائیل ،بھارت یا دہشت گردوں پرتنقید نہ کی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ یہ دوبارہ کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، خود کو سب سے ضروری اور ناگزیر سمجھنے والا ذہنی مریض ہی ہو سکتا ہے، اب بات چیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: طلال چوہدری وزیر مملکت پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ