City 42:
2026-07-24@07:09:58 GMT

بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق، ڈپٹی کمشنر معطل 

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

سٹی42: کراچی کی نیپا چورنگی جیسا روح فرسا سانحہ پنجاب میں بھی ہو گیا، واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد وزیراعلیٰ مریم نے پہلا کام یہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر کو برطرف کر دیا۔

آج صبح پنجاب کے شہر لودھراں میں ایک سات سالہ بچے کے گٹر کے کھلے مین ہول میں گر جانے کا سانحہ ہوا،  مین ہول سے گٹر میں گر جانے والا بچہ جاں بحق ہو گیا۔  اس سانحہ کی اطلاع ملنے کے بعد وزیر اعلی مریم نواز نے پہلا کام یہ کیا ہے کہ لودھراں کے ڈپٹی کمشنر کو معطل کر دیا ہےاور اس کے بعد یہ حکم دیا کہ بچے کے کھلے مین ہول میں گرنے اور گٹر کے مین ہول کے کھلا ہونے کی مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ براہ راست ان کو پیش کی جائے۔

نوازشریف کی قیادت میں پنجاب میں پہلی مرتبہ تعمیراتی سیاست کا آغاز ہوا؛ شہباز شریف

میڈیا اطلاعات کے مطابق ایم سات سالہ بچے کے کھلے مین ہول میں گر جانے  اور جاں بحق ہو جانے کا واقعہ ہوا۔ معلوم ہوا کہ بچہ اپنے چچا کے ساتھ ناشتہ کا سامان لینے کے لئے گھر سے نکلا تھا، چچا آگے چل رہا تھا، کم سن بچہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، کھلے میں ہول سے بچہ گٹر مین گر گیا اور جاں بحق ہو گیا۔ 

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مین ہول

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا