سونے کی ہوس اور ہتھیاروں کی فروخت، سوڈان میں امارات کی خونزیری
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سوڈان کا بحران صرف دو فوجی لیڈروں کی جنگ نہیں، بلکہ سونے، اسلحے، علاقائی اثر و رسوخ، جیوپولیٹکس، اور میڈیا بیانیوں کا ایک مرکب ہے۔ امارات کا کردار، خواہ اسلحہ بھیجنے کے الزامات ہوں، سونے کے ذریعے معاشی نفوذ ہو، یا اسپورٹس واشنگ، اس سارے تجزیے کا مرکزی حصہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف مصر اور سعودی عرب، سوڈانی فوج کی پشت پر ہیں، جس سے جنگ مزید پیچیدہ اور طویل ہوتی جا رہی ہے۔ آخری حقیقت یہ ہے کہ سوڈان بکھر رہا ہے، اور اس بکھراؤ کی قیمت صرف عوام ادا کر رہے ہیں۔ سیاسی اتفاقِ رائے اور بین الاقوامی نگرانی کے بغیر امن کا کوئی روشن امکان قریب نظر نہیں آتا۔ خصوصی رپورٹ:
گزشتہ دو برسوں سے متعدد میڈیا رپورٹس، تحقیقی دستاویزات اور فریقین کے بیانات سے اس امکان کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ امارات نے تیزرفتار (Rapid Support Forces ) فورسز کو مالی یا لاجسٹک مدد فراہم کی ہے، اگرچہ ابوظبی بارہا ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق، سوڈان کی جنگ جو اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، دنیا کے پیچیدہ ترین اور سب سے نظرانداز شدہ انسانی بحرانوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ 2023 کے اپریل سے شروع ہونے والی اس لڑائی نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے اور دارالحکومت خرطوم سمیت کئی بڑے شہر عملاً تباہ ہو چکے ہیں۔ اس بحران کو مزید پیچیدہ بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ بیرونی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات پر جنگ کو شدید تر کرنے یا طول دینے کے الزامات بڑھتے جا رہے ہیں، اگرچہ امارات ان کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
جنگ کیسے شروع ہوئی؟:
موجودہ لڑائی کی وجہ سوڈان کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور تیزرفتار فورسز (RSF) کے کمانڈر محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کے درمیان پرانی رقابت ہے۔ یہ دونوں عسکری ڈھانچے 2019 کی بغاوت کے بعد طاقتور ہوئے، اور بالآخر ان کے اختلافات ایک وسیع شہری جنگ میں بدل گئے۔ سعودی عرب اور مصر سوڈانی فوج کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ امارات کو RSF کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ آج خرطوم، ام درمان اور الفاشر جیسے شہر جنگ کے میدان بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 1 سے 1.
امارات کا نام کیوں بار بار آ رہا ہے؟:
1. سونے کے ذخائر پر کنٹرول: آر ایس ایف اور اماراتی تجارتی نیٹ ورکس کے درمیان گہرے معاشی روابط موجود رہے ہیں۔ حمیدتی کی فورسز برسوں تک سوڈان کی سونے کی کانوں، خصوصاً جبل عامر پر قابض رہی ہیں۔ اس سونے کا بڑا حصہ امارات کے ذریعے عالمی منڈی میں فروخت ہوتا تھا۔ اسی معاشی مفاد کی بنیاد پر بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ امارات کی ممکنہ حمایت کا مقصد سوڈان کے سونے تک مسلسل رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
2۔ اسلحے کی ترسیل اور تجارت: سوڈان کی حکومت نے 2025 میں امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ آر ایس ایف کو اماراتی ہوائی راستوں سے اسلحہ ملتا ہے۔ اگرچہ کسی سرکاری سطح پر اسلحہ فراہم کرنے کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، لیکن مشکوک کارگو پروازوں اور چینی ساختہ آلات کی بعض معلومات نے شبہات کو تقویت دی ہے کہ امارات پس پردہ لاجسٹک نیٹ ورک سے مدد فراہم کر سکتا ہے۔
3. جیوپولیٹیکل اہداف: گزشتہ دہائی سے امارات افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ سوڈان کے بحری راستے اور بندرگاہیں اور اس کی جغرافیائی اہمیت، امارات کے لیے نہایت اہم ہیں۔ بعض ماہرین امارات، مصر اور حتیٰ کہ چین کے درمیان خاموش مقابلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔
امارات کا دھندلاتا سافٹ امیج:
اس پورے سیاق میں "اسپورٹس واشنگ" (Sportwashing) بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ یورپ کی مشہور ٹیموں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، مثلاً شیخ منصور کی ملکیت میں مانچسٹر سٹی کلب، امارات کے جدید، محفوظ اور پرکشش چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ساتھ ہی بلاگرز اور مشہور شخصیات سوشل میڈیا پر امارات کی دلکش تصویریں پیش کرتے ہیں، لیکن ناقدین کے مطابق یہ خوبصورت تاثر سوڈان جیسے ممالک میں امارات کے ممکنہ عسکری کردار سے متصادم ہے۔
کیا سوڈان واپسی کے راستے سے آگے نکل چکا ہے؟:
سوڈان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر علاقائی طاقتوں کی حمایت جاری رہی، اور آر ایس ایف کو سونے سے ہونے والی آمدنی میسر رہی، تو جنگ کے طول پکڑنے اور ملک کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ممکن ہے مغربی حصّہ آر ایس ایف کے ہاتھ میں رہے اور مشرقی و شمالی علاقے فوج کے زیرِانتظام چلے جائیں، بالکل اسی طرح جیسے پہلے سوڈان جنوبی حصے سے محروم ہو چکا ہے۔
اگر عالمی اور علاقائی طاقتیں، خصوصاً امارات، سعودی عرب، مصر اور امریکا، مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوجائیں تو ایک سیاسی معاہدہ ممکن ہے، لیکن یہ راستہ نہایت مشکل اور طویل ہے۔ سب سے خطرناک امکان انسانی بحران کا شدید تر ہونا ہے۔ اگر امدادی راستے بند رہے اور الفاشر جیسے شہر محاصرے میں رہے، تو سوڈان یمن کے بعد دنیا کی سب سے بدترین انسانی تباہی والا ملک بن سکتا ہے، جس کی علامات پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہیں۔
سوڈان کا بحران صرف دو فوجی لیڈروں کی جنگ نہیں، بلکہ سونے، اسلحے، علاقائی اثر و رسوخ، جیوپولیٹکس، اور میڈیا بیانیوں کا ایک مرکب ہے۔ امارات کا کردار، خواہ اسلحہ بھیجنے کے الزامات ہوں، سونے کے ذریعے معاشی نفوذ ہو، یا اسپورٹس واشنگ، اس سارے تجزیے کا مرکزی حصہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف مصر اور سعودی عرب، سوڈانی فوج کی پشت پر ہیں، جس سے جنگ مزید پیچیدہ اور طویل ہوتی جا رہی ہے۔ آخری حقیقت یہ ہے کہ سوڈان بکھر رہا ہے، اور اس بکھراؤ کی قیمت صرف عوام ادا کر رہے ہیں۔ سیاسی اتفاقِ رائے اور بین الاقوامی نگرانی کے بغیر امن کا کوئی روشن امکان قریب نظر نہیں آتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آر ایس ایف کہ امارات امارات کا امارات کے سوڈان کی مصر اور رہے ہیں رہا ہے چکا ہے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز