سندھ حکومت نے تمام کاموں کی ای ٹینڈرنگ کا فیصلہ کیا ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے تمام کاموں کی ای ٹینڈرنگ کا فیصلہ کیا ہے، سندھ بھر میں اب پبلک پروکیورمنٹ، ٹینڈرز اور سرکاری کانٹریکٹس الیکٹرونکلی ہوں گے۔
گزشتہ روز کراچی میں پیش آئے افسوس ناک واقعے پر شرجیل میمن نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، کل پیپلز بس سروس کے شیشے بھی توڑے گئے، کلچر ڈے بالکل منائیں، لیکن ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔
شرجیل میمن نے پی ٹی آئی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھارتی میڈیا کو انٹرویو دے رہی ہیں، بھارت ماضی میں پی ٹی آئی کو فنڈ بھی کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ جمہوری روایات چلتی رہیں، لیکن کوئی جماعت ریڈ لائن کراس نہ کرے، بانی پی ٹی آئی کی پارٹی نے ابھی تک مارشل لاء نہیں دیکھے، پیپلز پارٹی کی پوری کی پوری لیڈرشپ نے جمہوریت کیلئے جان کے نذرانے دیے، شہید بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، پیپلز پارٹی نے کبھی اداروں پر حملے نہیں کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔