سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں پرنٹ میڈیا شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ان حالات میں اخبارات کی بقا ایک اہم سوال بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پہلے لوگوں کا دن اخبار سے شروع ہوتا تھا، اب موبائل فون سے ہوتا ہے۔”
سوشل میڈیا پر خبریں چوبیس گھنٹے گردش کرتی رہتی ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا نے بھی اخبارات کو سخت مقابلہ دیا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود حکومت چاہتی ہے کہ پرنٹ میڈیا ترقی کرے کیونکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بہت سی خبریں غلط ہوتی ہیں، اور ٹی وی چینلز پر بھی بریکنگ نیوز کی دوڑ نے صحافت کے معیار کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہماری کوشش ہے کہ اخبار کے شعبے کو مضبوط کریں۔”
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ میڈیا کی آزادی اور اس کی ترقی کی حامی رہی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:”اچھی جمہوریت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب میڈیا آزاد ہو۔ پیپلز پارٹی مشکل ترین ادوار میں بھی میڈیا کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔”
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ مختلف ادوار میں پیپلز پارٹی کو بدترین میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جماعت نے کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں متعدد اینکرز کو مختلف حکومتوں کے دور میں آف ایئر بھی کیا جاتا رہا۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ جھوٹ پر مبنی بیانیے کے ذریعے ملک کے خلاف مہم چلائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ “بانی پی ٹی آئی خود جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع دینے کی بات کرتا تھا۔”
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ملک میں نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی، جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بالکل درست تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی گئی اور ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ “ناکام سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن