اچھی جمہوریت میڈیا کی آزادی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں پرنٹ میڈیا شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ان حالات میں اخبارات کی بقا ایک اہم سوال بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پہلے لوگوں کا دن اخبار سے شروع ہوتا تھا، اب موبائل فون سے ہوتا ہے۔”
سوشل میڈیا پر خبریں چوبیس گھنٹے گردش کرتی رہتی ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا نے بھی اخبارات کو سخت مقابلہ دیا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود حکومت چاہتی ہے کہ پرنٹ میڈیا ترقی کرے کیونکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بہت سی خبریں غلط ہوتی ہیں، اور ٹی وی چینلز پر بھی بریکنگ نیوز کی دوڑ نے صحافت کے معیار کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہماری کوشش ہے کہ اخبار کے شعبے کو مضبوط کریں۔”
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ میڈیا کی آزادی اور اس کی ترقی کی حامی رہی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:”اچھی جمہوریت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب میڈیا آزاد ہو۔ پیپلز پارٹی مشکل ترین ادوار میں بھی میڈیا کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔”
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ مختلف ادوار میں پیپلز پارٹی کو بدترین میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جماعت نے کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں متعدد اینکرز کو مختلف حکومتوں کے دور میں آف ایئر بھی کیا جاتا رہا۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ جھوٹ پر مبنی بیانیے کے ذریعے ملک کے خلاف مہم چلائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ “بانی پی ٹی آئی خود جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع دینے کی بات کرتا تھا۔”
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ملک میں نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی، جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بالکل درست تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی گئی اور ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ “ناکام سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ