نوٹیفکیشن جاری، پی ٹی آئی سوشل میڈیا سے جڑے بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے جمعہ کو طویل انتظار کے بعد وہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے تحت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو 5؍ سال کیلئے چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور ساتھ ہی چیف آف دی ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) تعینات کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد کئی مہینوں سے جاری وہ پروپیگنڈا دم توڑ گیا جو سیاسی وابستگیوں کے حامل سوشل میڈیا سیلز سے چلایا جا رہا تھا کہ ان کی مدتِ ملازمت کیلئے نومبر 2025 کے بعد توسیع درکار ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے 5؍ دسمبر 2025ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تقرری صدرِ مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 243؍ اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کے سیکشن 8 اے کے تحت کی ہے۔ کئی ماہ سے مسلسل یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2025 کے آخر میں ریٹائر ہو جائیں گے تاوقتیکہ کہ انہیں نئی توسیع نہ دی جائے۔ اس بحث میں 2024ء کی وہ قانون سازی نظر انداز کر دی گئی جس کے تحت تینوں سروس چیفس یعنی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی مدتِ ملازمت تین سے بڑھا کر پانچ سال کی گئی تھی۔ انہی ترامیم کے تحت جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف مدتِ ملازمت پہلے ہی قانوناً نومبر 2027 تک آگے جا چکی ہے۔ تاہم، 27ویں ترمیم کے نتیجے میں مسلح افواج کے سربراہ کے نئے عہدے کی تخلیق کے بعد ایک مرتبہ پھر ابہام پیدا ہوا اور یہ ابہام مرکزی میڈیا تک بھی پہنچ گیا۔ 27ویں ترمیم میں یہ تصور شامل تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورس کا عہدہ بھی سنبھالے گا۔ اس کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ میں ایک اہم شق کا اضافہ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ … چیف آف آرمی اسٹاف جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورس بھی ہوں گے، کی پہلی تقرری ۔۔۔۔ اس سیکشن کے تحت مدتِ ملازمت کا آغاز اس عہدے کے نوٹیفکیشن کے اجراء کی تاریخ سے ہوگا۔ قانون میں واضح ہونے کے باوجود، مرکزی میڈیا میں بھی یہ تاثر دہرایا گیا کہ نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہے، جس سے غیر ارادی طور پر وہی غلط بیانیہ مضبوط ہوا کہ یہ نوٹیفکیشن نومبر کے آخر تک جاری ہو جانا چاہئے تھا۔ رواں ہفتے دی نیوز نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ قانوناً حکومت کسی مخصوص تاریخ پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی پابند نہیں اور اس دستاویز کی عدم موجودگی سے کوئی عہدہ خالی ہوتا ہے اور نہ کوئی قانونی خلا پیدا ہوتا ہے۔ 5؍ دسمبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں کسی طرح سے بھی پرانی تاریخ کا حوالہ نہیں دیا گیا (یعنی بیک ڈیٹنگ نہیں کی گئی) اور اسی تاریخ یعنی 5؍ دسمبر 2025ء کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس پانچ سالہ مدتِ ملازمت کا موثر آغاز قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے اجراء کے ساتھ ہی مہینوں طویل وہ پروپیگنڈا دم توڑ گیا جو بنیادی طور پر آرمی چیف پر تنقید کیلئے پھیلایا گیا تھا۔ اس پیشرفت نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت اور اختیارات 2024ء کے قانونی ڈھانچے کے تحت ان کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز حالیہ باضابطہ تقرری سے قبل بھی مکمل طور پر برقرار تھے۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیف ا ف ا رمی اسٹاف چیف ا ف ڈیفنس فورس ا رمی چیف کے بعد کے تحت
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔