5 سال سے لاپتہ شیعہ شہری سید دلدار علی زیدی کی اہلیہ کا اہم انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستان میں لاپتا شیعہ افراد کا مسئلہ ہے کیا؟ کراچی سمیت پاکستان میں کتنے شیعہ افراد لاپتا ہیں؟ موجودہ شیعہ مسننگ پرسنز کتنے عرصے سے لاپتا ہیں؟ لاپتا شیعہ افراد کے اہل خانہ کن مسائل و پریشانیوں کا شکار ہیں؟ متاثرہ اہل خانہ کے ریاست و اداروں سے مطالبات؟ سمیت دیگر متعلقہ و اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے سالوں سے لاپتہ شیعہ سید دلدار علی زیدی کی اہلیہ کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ بھی شیئر کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںشہر قائد کے رہائشی سید دلدار علی زیدی گذشتہ تقریباً پانچ سال سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں، 5 فروری 2021ء کو لاپتا ہونے کے بعد سے تاحال اہل خانہ کو ان سے متعلق کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ”اسلام ٹائمز“ نے لاپتا شیعہ شہری سید دلدار علی زیدی کی رہائش گاہ پر انکی اہلیہ کیساتھ گفتگو کی، جس میں انہوں نے اپنی اور تمام جبری گمشدہ شیعہ افراد کے خانوادوں کی جانب سے اپنے پیاروں کی کئی کئی سالوں سے اذیت ناک جدائی، پریشانی، مسائل اور درد دل بیان کیا، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید دلدار علی زیدی شیعہ افراد
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔