فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری، ایئر چیف مارشل کی ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی اور سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزارت دفاع نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی بطور سربراہ پاک فضائیہ مدت میں 2 سال کی توسیع کی گئی ہے، ایئر چیف مارشل کی بطور ایئر چیف مدت میں توسیع کا اطلاع 19 مارچ 2026 سے ہوگا۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن آئین کی شق 243 اور ایئر فورس ایکٹ کی شق 10 بی کےتحت جاری کیا گیا۔
گزشتہ روز صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور کی تھی۔
چیف آف آرمی اسٹاف کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پانچ سال کے لیے ہوگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایئر چیف مارشل میں توسیع
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔