امریکہ کی لبنان کو 90.5 ملین ڈالر مالیت کی فوجی گاڑیوں کی فروخت کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ نے لبنان کو 2 قسم کے میڈیم ٹیکٹیکل وہیکلز اور متعلقہ ساز و سامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
پینٹاگون کی ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق ان وہیکلزکی کل قیمت کا تخمینہ 9 کروڑ 5 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
اس مجوزہ فروخت میں اسپیئر پارٹس، تکنیکی دستاویزات، عملے کی تربیت اور لاجسٹک معاونت شامل ہے، جسے باضابطہ طور پر امریکی کانگریس کو بھیج دیا گیا ہے۔
???????? | ???????? The Pentagon has announced its approval for the sale of vehicles and equipment to Lebanon at a cost of $90.
— Observe Lebanon (@ObserveLebanon) December 5, 2025
لبنان نے5 ٹن کے M1085A2 اور 2.5 ٹن کے M1078A2 ٹیکٹیکل وہیکلز کی درخواست کی ہے، جو دونوں وِنچ کے بغیر ہیں۔
ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق، یہ فروخت لبنان کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جس سے لبنانی مسلح افواج کو سرحدی سکیورٹی کے چیلنجز کا فوری جواب دینے اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں انجام دینے میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں:
مضبوط وہیکل فلیٹ امریکا اور لبنان کے درمیان عملی اور تربیتی تعاون کو بھی تقویت دے گا۔
ایجنسی نے کہا کہ لبنان کو ان گاڑیوں اور معاون خدمات کو اپنی افواج میں شامل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور یہ بھی واضح کیا کہ اس فروخت سے خطے کا فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں:
وسکونسن میں قائم کمپنی اوشکوش ڈیفنس کو اس منصوبے کا بنیادی ٹھیکیدارمقرر کیا گیا ہے، ابھی تک کوئی آفسیٹ معاہدہ تجویز نہیں کیا گیا، اور اس منصوبے کی تکمیل کے لیے لبنان میں اضافی امریکی عملے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ڈی ایس سی اے نے واضح کیا کہ 90.5 ملین ڈالر وہ زیادہ سے زیادہ تخمینہ ہے جو ابتدائی ضروریات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، اور یہ رقم حتمی معاہدے اور بجٹ کے مطابق کم بھی ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
یہ مجوزہ فروخت مشرقِ وسطیٰ میں لبنان کے استحکام اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد لبنان کو خطے میں سیاسی و معاشی ترقی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پینٹاگون ڈیفنس ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی لبنان محکمہ خارجہ میڈیم ٹیکٹیکل وہیکلز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پینٹاگون ڈیفنس سیکیورٹی کو لبنان کو گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :