data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چین نے فلسطین میں انسانی بحران کو ختم کرنے اور غذائی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فلسطین کو 100 ملین امریکی ڈالرز کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کے اس امداد کے اعلان پر فلسطینی صدر محمود عباس نے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فراخدلانہ عطیہ دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان ٹھوس دوستی اور انصاف کے لیے چین کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر محمود عباس نے بین الاقوامی مواقع پر فلسطین کی حمایت پر چین کا شکریہ بھی ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فلسطین بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین، فرانس کے ساتھ مل کر فلسطینی مسئلے کے جلد از جلد جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے کام کرے گا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کی اسٹریٹجک بصیرت، باہمی حمایت اور سیاسی بنیادوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ صدر میکرون، جو تین روزہ دورے پر چین میں موجود ہیں، نے ستمبر میں نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ مل کر ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کی تھی جس کا مقصد دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت حاصل کرنا تھا۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ