2 برس میں تجارتی حجم 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا عزم: پاکستان، کرغزستان میں 15 سمجھوتے
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد(خبر نگار خصوصی) پاکستان اور کرغزستان نے کہا ہے کہ افغان حکومت عالمی برادری سے کیے وعدے پورے اور پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور کرے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، معدنیات، تجارت، تعلیم، قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت پر 15 ایم او یوز سائن ہوئے جبکہ دو سال میں تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر تک لانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔ دو طرفہ مذاکرات میں وزیراعظم کی معاونت ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف، سمیت دیگر اہم وفاقی وزراء اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی "ویڑن سینٹرل ایشیا" پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا کہا کہ کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لئے تیار ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون اور بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مزید براں، دورے کے دوران دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر موثر عمل درآمد کے ذریعے 2027ء۔2028ء تک دو طرفہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے ملاقات کے دوران 28-29 جولائی 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ کرغزستان پاکستان مشترکہ سرکاری کمشن کے پانچویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے توانائی کے شعبہ میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہو? CASA-1000 منصوبے پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پْرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967ء سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ مذاکرات کے بعد خصوصی تقریب میں دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور کرغزستان کے صدر بھی موجود تھے۔ پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی اور کرغزستان کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ ڑینبیک کولوبایف نے دستخط کیے۔ دریں اثناء کرغز صدر نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دونوں ملک دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پُرعزم، تجارتی روابط میں اضافے کے لئے بزنس فورم کا انعقاد اہم ہے۔ شہبازشریف کی معاشی استحکام اور ترقی کے لئے کاوشیں ان کے ویژن کی عکاس ہیں۔ علاوہ ازیں کرغز صدر نے وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کی تقریب میں شرکت بھی کی۔ دریں اثناء نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحق ڈار نے کرغیزستان کے صدر سادِر ژاپاروف سے ملاقات کی ہے جس میں اسلام آباد کی جانب سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیر اعظم اسحق ڈار نے صدر صادر ژاپاروف اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر اسحق ڈار نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دلی مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ انہوں نے اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کرغیز تعلقات کو مشترکہ دلچسپی کے ہر شعبے میں مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اسحٰق ڈار نے صدر صادر ژاپاروف کو پاکستان کی قیادت کے ساتھ ان کی طے شدہ ملاقاتوں، دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے ساتھ روابط اور وسیع البنیاد دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری سے کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کی ایوان صدر میں ملاقات ہوئی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان مختصر ون آن ون گفتگو بھی ہوئی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ کرغز صدر کا 20 سال بعد دورہ پاک-کرغز تعلقات میں نیا موڑ لائے گا، پاکستان اور کرغزستان میں تاریخی، مذہبی و ثقافتی رشتہ موجود ہے۔ اس موقع پر دونوں صدور کا تجارت بڑھانے اور معاشی تعاون وسیع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان نے کرغزستان کو بزنس ویزا لسٹ اور ویزا پر اروائیول کی کیٹیگری میں شامل کرلیا، دونوں ممالک کا تجارت، توانائی، کنیکٹیویٹی اور تعلیم سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ کرغز صدر نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل نشست کی حمایت پر شکریہ اور صدر زرداری کو دورہ کرغزستان کی دعوت دی۔ صدر مملکت نے کرغز صدر کو سالگرہ کی پیشی مبارک باد دی، تقریب میں آرکسٹرا کی جانب سے "ہپی برتھ ڈے" کی دھن بھی پیش کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان کرغزستان کے مشترکہ بزنس فورم سے خطاب میں کہا ہے کہ کرغزستان 20 سال کے بعد پاکستان کے دورے پر ہے۔ ریل منصوبہ خطے کیلئے اہم ہے۔ ہم نے منصوبے کے لئے ایم او یو پر دستخط کئے ہیں۔ پاکستان کے 8500 طلباء کرغزستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ کرغزستان نے اپنے حصے کاسا 1000 منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ پاکستانی حکومت سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کر رہی ہے۔ کاسا منصوبے کا پاکستان کا حصہ جلد مکمل کر لیا جائیگا۔ ہم صوبوں کے نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل، زراعت اور آئی ٹی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عزم کا اعادہ کیا اور کرغزستان دونوں ممالک کرغزستان کے پاکستان کے پاکستان کی اتفاق کیا پر اتفاق ممالک کے کیا گیا کے ساتھ ڈار نے کے لئے کے صدر کے لیے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں