1967افغان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرے، صدر کرغزستان
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پاکستان اور کرغزستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کی وزیراعظم ہاوس میں وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔دو طرفہ مذاکرات میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، سمیت دیگر اہم وفاقی وزراء اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی ”ویژن سینٹرل ایشیا” پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات جو تاریخی روابط، مشترکہ تہذیب و اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں ان کے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے ممالک کے درمیان جاری باہمی تعاون اور بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مزید برآں، دورہ کے دوران دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر موثر عمل درآمد کے ذریعے2027۔2028 تک دو طرفہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔:دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران 28-29 جولائی 2025 کو اسلام آباد میں منعقدہ کرغزستان-پاکستان مشترکہ سرکاری کمیشن کے پانچویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے توانائی کے شعبہ میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے CASA-1000 منصوبے پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ یہ منصوبہ علاقائی توانائی تعاون میں اہم سنگِ میل اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔دونوں رہنماؤں نے جمہوریہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان محفوظ، مستحکم و دیر پا اور کثیر الجہتی روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں دو طرفہ اور علاقائی تجارت میں مزید اضافہ کے لئے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان ”کواڈرلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA)” کے تحت روڈ کوریڈور کے فعال ہونے پر اظہار اطمینان کیا گیا۔ xv :: مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔دونوں رہنماؤں نے پرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی، معدنیات، تجارت, تعلیم, قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی .
اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر کا وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کے صدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی سطح پر ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بھی مشترکہ گفتگو جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی، معدنیات، تجارت, تعلیم, قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر نے شرکت کی۔
اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر کا وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کے صدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی سطح پر ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بھی مشترکہ گفتگو کی جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی، معدنیات، تجارت, تعلیم, قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر نے شرکت کی۔اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر کا وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کے صدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی سطح پر ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بھی مشترکہ گفتگو کی. جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر سطح پر ملاقات ہوئی عزم کا اعادہ کیا ممالک کے درمیان دونوں ممالک کے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس پاکستان اور پاکستان کی نے شرکت کی اتفاق کیا مفاہمت کی دو طرفہ پر بھی کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔