بانی پی ٹی آئی کی بہن کی بھارتی میڈیا سے بات چیت تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی: وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ سیاستدانوں سے بات کرنے سے انکار کرتے رہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہن کی بھارتی میڈیا سے بات چیت تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔وزیر دفاع نے کہا کہ تحریک انصاف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو دل سے نہیں اپنایا۔ تحریک انصاف دہشتگردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بیانات کی کبھی پی ٹی آئی نے مذمت نہیں کی مگرساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔پی ٹی آئی کے برعکس ہم نے اور پی پی پی نے9مئی کیا۔انہوں نے کہا کہ فوج پر ہم نے بھی تنقید کی مگر کبھی سرخ لکیر عبور نہیں کی، انڈیا کو انٹرویو نہیں دیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کیا بات کریں گے جب ان کی اپنی پارٹی مخالفانہ بیان د ے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے بھارتی میڈیا انٹرویوز میں کبھی پاکستان کے وجود، سالمیت کیخلاف بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، پی ٹی آئی نے اپنے کسی ر ہنما کی پاکستان مخالف بات پر ایک بار بھی مذمت نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا پیپلزپارٹی نے تو کبھی بھارت کو آواز نہیں دی۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے کبھی 9مئی جیسا اقدام نہیں کیا، پیپلزپارٹی کے لیڈر کو پھانسی دی گئی مگر اس کے باوجود انہوں نے9 مئی جیسا واقعہ نہیں کیا۔ نواز شریف کو قید کیا گیا، ان کو 3مرتبہ ہٹایا گیا مگر کبھی ریڈ لائن کراس نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے۔ بیرسٹر گوہر کو کوئی لفٹ نہیں کراتا ان کی پارٹی کے ورکرز ان کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سب کچھ بانی پی ٹی آئی کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند سال سے جو حالات خراب ہوئے ہیں اس کی ذمہ داری بانی پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے۔یہ تلخی پی ٹی آئی کی وجہ سے آئی ہے آج جو ردعمل دیا گیا وہ فطری تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔