اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کو جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ اڈیالہ جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ جو بھی جیل رولز کی خلاف ورزی کرے گا اسے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔ جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی میڈیا کو جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں آتا، انہیں شرم کرنی چاہئے۔  ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے سینئر صحافیوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا ہوا تھا۔ پورے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کو آج قوم کے سامنے شرمسار ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ہوا ہے۔ پاکستان نے سٹرکچرل تبدیلیاں کر کے دشمن کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ تمام فورسز کی متحدہ کمانڈ قائم کی گئی ہے، اس سے ہمیں جنگ میں فتح ملی۔ ہم نے مشرقی اور مغربی سرحدوں کو مضبوط کیا۔ دشمن کو شکست دی، آئندہ دشمن جرات نہیں کرے گا۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ٹرین مس کر دی۔ اپنے لیڈر کے بیانات پر معذرت کریں۔ بانی پی ٹی آئی بھارت اور افغانستان کیلئے سپیس پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سہیل آفریدی صوبے میں امن و امان ٹھیک نہیں کریں گے تو گورنر راج کا آپشن استعمال ہو گا۔ بانی کے بیانات سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے اعلان لاتعلقی کے بعد مذاکرات کا دیکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان