بانی پی ٹی آئی صورتِحال کوخرابی کی طرف لے گئے، مذاکرات کے امکانات نہیں:رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ویب ڈٖیسک :وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے امکانات نہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ٹوئٹ کے بعد پیدا صورتِ حال سے لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہوگئے، بانی صورتِ حال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایوان میں مذاکرات کی پیش کش کی تھی ، وزیراعظم کی پیش کش کو وہ تو واپس نہیں لے سکتے اور نہ ہی انہوں نے واپس لیا ہے۔
جعلی ملازمتوں کی پیشکش، ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والوں کو خبردار کردیا
اس سے پہلے اپنے بیان میں رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی جو پیش کش وزیر اعظم نے کی وہ آج بھی موجود ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے بات چیت کا موقع گنوا دیا ہے اور اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس سال اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالا اسمارٹ فون کونسا ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :