بانی پی ٹی آئی صورتحال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے اب امکانات نہیں، بانی پی ٹی آئی صورت حال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایوان میں مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ وزیراعظم کی پیشکش کو میں واپس تو نہیں لے سکتا اور نہ ہی انہوں نے واپس لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹ کے بعد پیدا صورت کے بعد لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں، بانی پی ٹی آئی صورت حال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں مطالبہ کیا جارہا تھا کہ کمیٹی ملاقات کے معاملے کو دیکھے، مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ کمیٹی بنائیں جس میں دونوں طرف سے ارکان ہوں، سینیٹ اجلاس میں مشال یوسف زئی کی گفتگو کے جواب میں بیان دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔