بانی پی ٹی آئی جن سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے: رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور تمام فریقین آئیں اور بیٹھ کر بات کریں۔
سینیٹ اجلاس میں خظاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ جن افراد سے بانی پی ٹی آئی عمران خان بات کرنا چاہتے ہیں، وہ ملاقات کے لیے راضی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بات چیت میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، رانا ثناء اللہ کی قیادت میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر جائے اور بانی پی ٹی آئی کی صحت اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔
اس پر جواب دیتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جمہوریت ڈائیلاگ اور مذاکرات سے فروغ پاتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ وزیراعظم نے دو بار فلور آف دی ہاؤس پر بات چیت کے لیے بیٹھنے کی دعوت دی اور یہاں تک کہا کہ اسپیکر کے چیمبر میں بیٹھ جائیں تو وہ وہاں حاضر ہو جاتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے مزید وضاحت کی کہ پی ٹی آئی سرکاری سطح پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور جن افراد سے ملاقات کی خواہش ہے وہ راضی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیدی سے ملاقات کے بعض اصول پہلے سے طے ہونا ضروری ہیں، اور بانی سے ہونے والی گزشتہ گفتگو بھی عوام کے سامنے ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قیدی کو ریاست کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور یہ اصول تمام فریقین کے لیے یکساں ہیں۔
یہ موقف حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی کے ساتھ کھلی بات چیت کی خواہش اور موجودہ سیاسی کشیدگی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔