پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے امکانات نہیں، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کردیا کہ پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے امکانات نہیں۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ٹوئٹ کے بعد پیدا صورتِ حال سے لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہوگئے۔ بانی صورتِ حال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایوان میں مذاکرات کی پیش کش کی تھی ، وزیراعظم کی پیش کش کو وہ تو واپس نہیں لے سکتے اور نہ ہی انہوں نے واپس لیا ہے۔اس سے پہلے اپنے بیان میں رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی جو پیش کش وزیر اعظم نے کی وہ آج بھی موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے بات چیت کا موقع گنوا دیا ہے اور اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مذاکرات کی پی ٹی آئی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔