پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات، دفتر خارجہ کا لاعلمی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات، دفتر خارجہ کا لاعلمی کا اظہار WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے متعلق دفتر خارجہ نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھیں، ان مذاکرات سے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جب تک افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کی روک تھام کی پختہ یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک سرحد بند رہے گی، مسئلہ صرف ٹی ٹی پی یا ٹی ٹی اے نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، سرحد کی بندش کے تناظر کو اسی حقیقت میں سمجھا جائے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان کا افغانستان کے عوام سے کسی قسم کا اختلاف نہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں، بارڈر بندش کے سکیورٹی اسباب ہیں، افغان عوام کے لیے امدادی راہداری میں پاکستان ہمیشہ مثبت رہا ہے، بارڈر پالیسی کا تعلق افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی تعاون سے ہے، افغان حکومت یقین دہائی کرائے کہ دہشت گرد اور پرتشدد عناصر پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے تب ہی سرحد کھولیں گے۔
طاہر حسن اندرابی کا کہنا تھا ترک صدر نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک اعلی سطح ترک وفد اسلام آباد آئے گا، ترکیہ وفد کے نہ آنے کی وجہ شیڈولنگ ہو سکتی ہے یا پھر طالبان کی طرف سے تعاون کی عدم دستیابی، افغانستان سے سرحد کی بندش ہم نے اپنی حفاظت کے لیے کی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہری دہشتگردی کا نشانہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن کا دورہ بھارت دونوں خودمختار ممالک کا باہمی معاملہ ہے، بھارت اور روس کے ممکنہ دفاعی معاہدوں پر پاکستان کی کوئی مخصوص پوزیشن نہیں ہے، ریاستیں اپنے دو طرفہ تعلقات بڑھانے میں خودمختار ہیں۔ان کا کہنا تھا بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسوں پر تشویش ہے، ریاستی سرپرستی نے انتہا پسند تنظیموں کو مزید دلیر بنا دیا ہے، کل بابری مسجد کا 33واں یوم شہادت ہے، یہ واقعہ آج بھی تشویش اور دکھ کاباعث ہے، مسلم مذہبی علامتوں اور تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کے ہر عمل کا شفاف احتساب ضروری ہے، کسی بھی مقدس مقام کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کرغزستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، کرغز صدر اور وزیراعظم نے وفد کی سطح پر ملاقاتیں کی، دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ممالک تجارتی حجم سال 2027-28 تک 200 ملین تک پہچانے پر اتفاق کیا۔ترجمان کے مطابق کرغز صدر کے دورے پر 15 ایم او یوز پر دستخط ہوئے، کرغز صدر نے بزنس فورم سے خطاب کیا، بزنس فورم میں 20 سے زائد کرغز کمپنیاں تھیں جبکہ 80 سے زائد پاکستانی تاجر شریک تھے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے کرغز وزیر خارجہ اور صدر سے ملاقاتیں کیں، مصر کے وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان کیا، اسحاق ڈار نے اسلام آباد کانکلیو کا افتتاح کیا۔
واضح رہے کہ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات کا دعوی کیا تھا۔رائٹرز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے سعودی عرب میں امن مذاکرات کا تیسرا دور ہوا جس کی میزبانی سعودی عرب، ترکیہ اور قطر نے مشترکہ طور پر کی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوسکی تاہم جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے اے ایف ڈی کے وفد کی ملاقات، پانی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتری کے منصوبوں پر تبادلہ خیال چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے اے ایف ڈی کے وفد کی ملاقات، پانی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتری کے منصوبوں... ایک ذہنی مریض قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے، نمٹا جائے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر سانحہ 9مئی کے تین مقدمات میں عمر ایوب کی ضمانت خارج کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی، روس نے پاکستان پوسٹ کی خدمات پر پابندی عائد کر دی یوکرینی صدر زیلنسکی ڈرون حملے میں نشانہ بننے سےبال بال بچ گئے پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات دفتر خارجہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔